around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

خیبرپختونخوا حکومت کا پی ٹی آئی کارکنان کی نظربندی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے جس میں 3 ایم پی او کے تحت پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی نظربندی کالعدم قرار دی گئی تھی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ سماعت کرے گا۔

around.pk·1h ago

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی تھری ایم پی او کے تحت نظربندی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ درخواستیں چیف سیکریٹری کے ذریعے دائر کی گئی ہیں اور اب سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا بینچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پی ٹی آئی کے 51 کارکنان کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں احسان، حق نواز خان، صدرالرحمان، فضل اللہ، عمران سعید، محمد ادریس، سلمان، خان نواب، فدا محمد، بخت کرم، اظہاراللہ، امجد علی، جمشید علی، محمد اشفاق، فضل جہاں، داؤد خان، سعیدالرحمان، انعام اللہ، اصغر منیر، عادل، حضرت علی، حنیف اختر، غلام اللہ، تیمور، نصیر، مبشر شاہ، محمد اکمل، اجمل شاہ، حیات خان، سجاد، نیاز محمد، عبدالوہاب، گل بادشاہ، فضل کریم، راجہ لیاقت زمان، منیر خان جدون، محمد نعمان، سید فہیم شاہ، ملک حارث، کاشف خان، دانیال، زیبان خان، رشید بابر، دلبر خان، محمد جہانگیر اور نوید شہزاد سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے مختلف افراد کی تھری ایم پی او کے تحت نظربندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی تھی، جس کے بعد صوبائی حکومت نے یہ معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے مزید 150 کارکنان کی نظربندی اور ان کی ضمانتوں کو کالعدم قرار دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بھی وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرے گی۔ اس حوالے سے تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں اور جلد ہی متعلقہ درخواستیں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

ماہرین قانونی امور کے مطابق یہ کیس اس لیے اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس میں صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات اور عدلیہ کے تحفظاتی احکامات کے درمیان توازن کا تعین ہوگا۔ آئینی عدالت کا فیصلہ نہ صرف زیرِ بحث کارکنان بلکہ آئندہ کے لیے نظربندی کے طریقہ کار پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گورنر راج کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات پر عدالتی جانچ جاری ہے، اور مختلف کیسز میں دیے گئے فیصلوں کے خلاف حکومت نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے، جس کے بعد اس کیس میں مزید قانونی پیش رفت سامنے آئے گی۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں