around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 30°☀ لاہور 24°☀ اسلام آباد 20°
پاکستان

خیبر پختونخوا محکمہ اطلاعات: 13 سال سے لاپتہ سرکاری گاڑیوں کا ریکارڈ طلب، ذمہ داروں کو 72 گھنٹے کی مہلت

خیبر پختونخوا کے محکمہ اطلاعات نے گزشتہ 13 سال میں گم ہونے والی سرکاری گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جبکہ گاڑیاں واپس نہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

around.pk·2h ago

خیبر پختونخوا کے محکمہ اطلاعات نے گزشتہ تیرہ سال کے دوران گم ہونے والی سرکاری گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ محکمے کی جانب سے یہ اقدام سرکاری اثاثوں کی حفاظت اور ان کی شفاف نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ کس مرحلے پر اور کن حالات میں یہ گاڑیاں محکمے کے قبضے سے باہر ہوئیں۔

مشیر اطلاعات کی ہدایات پر محکمہ اطلاعات اور اس کے ماتحت دفاتر میں زیر استعمال تمام گاڑیوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ اس ریکارڈ میں ہر گاڑی کی موجودہ حیثیت، اس کے استعمال کا مقصد اور متعلقہ ذمہ دار افسر یا اہلکار کی معلومات شامل کی جائیں گی، تاکہ محکمے کے پاس دستیاب وسائل کا مکمل اور مستند خاکہ تیار کیا جا سکے۔

سیکرٹری اطلاعات کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ تمام ریکارڈ کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد پانچ روز کے اندر تصدیق شدہ رپورٹ جمع کرائیں۔ اس رپورٹ میں گمشدہ گاڑیوں کی مکمل فہرست، ان کے گم ہونے کی وجوہات اور ان سے متعلق ذمہ داریوں کا تعین شامل ہوگا، جس سے محکمے کی اندرونی کارکردگی کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔

حکام کے مطابق جو گاڑیاں مقررہ مدت یعنی بہترہ گھنٹوں کے اندر واپس نہیں کی جائیں گی، ان کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں محکمے نے واضح پیغام دیا ہے کہ سرکاری املاک کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داری سے انکار کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ سرکاری گاڑیوں کے ضیاع اور غیر قانونی استعمال کا معاملہ صوبائی محکموں میں اثاثوں کی ناقص نگرانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ محکمہ اطلاعات کی یہ کارروائی دیگر سرکاری اداروں کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ اپنے وسائل کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے اور ذمہ داریوں کی نشاندہی کی جائے، تاکہ قومی خزانے کو غیر ضروری نقصان سے بچایا جا سکے۔

اس اقدام کو صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں میں احتساب اور شفافیت کے فروغ کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی جانچ پڑتال سے نہ صرف گمشدہ اثاثے بازیاب کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ آئندہ کے لیے بھی محکموں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا، جس سے عوامی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے گا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں