راولپنڈی: پولیس تشدد سے شہری جاں بحق، اے ایس آئی اور دو کانسٹیبلوں کے خلاف مقدمہ درج
تھانہ ٹیکسلا کے علاقے گانگو چیک پوسٹ پر پولیس اہلکاروں کے مبینہ تشدد سے ایک شہری جاں بحق ہوگیا، پولیس نے اے ایس آئی سمیت تین اہلکاروں کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

راولپنڈی کے علاقے تھانہ ٹیکسلا میں واقع گانگو چیک پوسٹ پر پولیس اہلکاروں کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں ایک شہری جان کی بازی ہار گیا، جس پر پولیس نے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) اور دو کانسٹیبلوں کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقتول اکمل خان اپنی گاڑی میں سی این جی بھروانے کے لیے جا رہا تھا اور چیک پوسٹ پر پہنچا تو پولیس عملے نے اسے روک لیا۔
مقدمہ مقتول کے چھوٹے بھائی زاہد خان کی مدعیت میں دفعہ 302 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں اے ایس آئی کاشف اور کانسٹیبل سہیل و قدیر کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی کا موقف ہے کہ تینوں اہلکاروں نے ان کے بھائی کو ناحق نشانہ بنایا اور اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے جان بوجھ کر تشدد کیا، جس کے باعث ان کی موت واقع ہوئی۔
مدعی زاہد خان نے بتایا کہ ان کے بھائی اکمل خان نے چیک پوسٹ پر روکے جانے کے بعد اپنے موبائل فون سے درگاہی کے رہائشی فرخ امیر خان کو کال کرکے صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس اطلاع پر فرخ امیر خان اور مختیار خان بھی موقع پر پہنچے، اور تینوں افراد نے دیکھا کہ پولیس اہلکار چیک پوسٹ کے کمرے کے اندر اکمل خان کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔
مدعی کے مطابق اکمل خان زمین پر گر کر منت سماجت کر رہا تھا، تاہم اے ایس آئی کاشف کی ہدایت پر کانسٹیبل سہیل اور قدیر نے اسے مزید لاتوں اور مکوں سے مارا۔ بعد ازاں زخمی حالت میں اکمل خان کو گاڑی میں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال ٹیکسلا منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹر نے معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔
مدعی نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے ان کی گاڑی کے کاغذات بھی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں، جنہیں واپس کیا جائے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ پولیس رویے اور چیک پوسٹوں پر شہریوں سے سلوک کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ راولپنڈی میں اس سے قبل بھی مبینہ پولیس زیادتی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن پر سول اور فوجداری دونوں سطحوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات کی شفاف تفتیش سے ہی عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔








