around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 26°
پاکستان

لاہور میں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کے قریب سرویلنس ڈرون گرنے کا واقعہ، تحقیقات جاری

لاہور میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز کی بیرونی دیوار سے نامعلوم سرویلنس ڈرون ٹکرا کر گر گیا، سکیورٹی ٹیم نے ڈرون قبضے میں لے کر بم ڈسپوزل اسکواڈ سے معائنہ کرایا، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

around.pk·3m ago

لاہور میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ہیڈکوارٹرز کے قریب گزشتہ شب ایک سرویلنس ڈرون گرنے کا واقعہ پیش آیا، جس سے عمارت میں سکیورٹی الرٹ بڑھ گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے پیش آیا، جب مذکورہ ڈرون جلو موڑ کی جانب سے سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی طرف آیا اور عمارت کی بیرونی دیوار سے ٹکرا کر نیچے گر گیا۔

حکام کے مطابق یہ ایک جدید ساختہ سرویلنس ڈرون تھا، جسے ہیڈکوارٹرز کے اندرونی حصوں کی ریکی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی سکیورٹی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس موقع پر ڈرون کے ساتھ نصب کیمرے اور بیٹری کی لائٹس فعال حالت میں تھیں۔

واقعے کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا، جس نے ڈرون کا تفصیلی معائنہ کیا اور کسی قسم کے خطرے کی نشاندہی نہ ہونے پر کلیئرنس دے دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم ملزمان نے مبینہ طور پر دہشت گردی کے مقصد سے یہ ڈرون ہیڈکوارٹرز کی جانب بھیجا تھا، تاہم اس حوالے سے حتمی نتیجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی سکیورٹی ٹیم نے اس سلسلے میں تھانہ ہربنس پورہ میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع کرادی ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں، جن میں ڈرون کی پرواز کا راستہ، اس کے آپریٹر اور مقصد سمیت دیگر امور شامل ہیں۔

یہ واقعہ حساس سکیورٹی ادارے کی عمارت کے قریب پیش آیا، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر ہیڈکوارٹرز میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم سکیورٹی ٹیم کی بروقت کارروائی سے صورتحال قابو میں آگئی۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں ڈرون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر حساس اداروں کے اردگرد فضائی نگرانی اور انسداد ڈرون اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ملک بھر میں حساس تنصیبات کے قریب ڈرون کی پرواز کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن پر متعلقہ ادارے الگ الگ تحقیقات کر رہے ہیں۔ ماہرین سکیورٹی امور کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی اور مقامی سطح پر نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں