مردوں کی خواتین سے کم عمری کی وجوہات: نئی تحقیق میں اہم انکشافات
لینسیٹ میں شائع تحقیق کے مطابق مردوں کی کم اوسط عمر کے پیچھے جینیاتی عوامل کے ساتھ طرزِ زندگی، سماجی تنہائی اور صحت کے مسائل کو نظرانداز کرنے جیسے رویے بھی شامل ہیں۔

دنیا بھر میں خواتین کی اوسط عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کی گئی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس فرق کی وجوہات صرف جینیاتی نہیں بلکہ طرزِ زندگی اور معاشرتی رویوں میں بھی پوشیدہ ہیں۔ طبی جریدے دی لینسیٹ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے بھی نمایاں کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مرد خواتین کے مقابلے میں اوسطاً تقریباً چار سال کم جیتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر یہ فرق تقریباً 4.8 سال تک پہنچ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ محض حیاتیاتی فرق نہیں، بلکہ روزمرہ عادات اور سماجی ماحول بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی، شراب نوشی، مالی پریشانیاں، بے روزگاری اور بیماری کی ابتدائی علامات کو نظرانداز کرنا مردوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سماجی طور پر تنہا رہنے والے مردوں میں قبل از وقت موت کا خطرہ 41 فیصد زیادہ پایا گیا، جبکہ خواتین میں یہ شرح 25 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مرد اکثر اپنی بیماریوں اور ذہنی پریشانیوں کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے، جس کی وجہ سے بروقت علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے اور صحت کے مسائل پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس رویے کو تبدیل کرنا طویل المدتی صحت کے لیے نہایت ضروری قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق میں مردوں کو باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور صحت کے کسی بھی مسئلے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق دوستوں اور خاندان سے مضبوط تعلقات قائم رکھنا اور ذہنی دباؤ پر کھل کر بات کرنا بھی بہتر صحت اور طویل زندگی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی اور کھلی سماجی رابطے مردوں کی متوقع عمر میں اضافے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں، اور اس حوالے سے شعور بیدار کرنا عوامی صحت کے لیے مفید ہوگا۔










