around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 32°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 25°
پاکستان

خیبر پختونخوا حکومت غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی، گورنر فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی افغان باشندوں کے حوالے سے وہی پالیسی ہے جو وفاق کی ہے، غیر قانونی غیر ملکیوں کو کہیں رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

around.pk·49m ago

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھے گی اور اس معاملے پر صوبے کی پالیسی وفاقی حکومت کی پالیسی کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہوگا اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ درست ویزا رکھنے والے افراد کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں غیر قانونی غیر ملکیوں کو قیام کی اجازت نہیں دی جاتی اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کسی دباؤ میں آئے بغیر جاری رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ صوبے میں قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

گورنر نے بجلی کے شعبے سے متعلق کہا کہ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی، تاہم بجلی کو مالِ غنیمت قرار نہیں دیا جا سکتا اور صارفین کو اپنے بل لازماً ادا کرنا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے جس کے ذریعے فیڈر کی بجائے ٹرانسفارمرز کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے گی، جس سے صارفین کو کسی حد تک ریلیف ملنے کی امید ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کی فراہمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس رقم کا 70 فیصد حصہ ان علاقوں پر خرچ ہوگا جو ماضی میں محروم رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور سہیل افریدی سمیت کسی بھی فرد کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں کے درمیان نصب بجلی کے کھمبے پیسکو کی مدد سے ہٹائے جائیں گے تاکہ عوام کو سفری سہولت مل سکے۔

اس سے قبل سپاوس 2026ء یورولوجیکل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے صحت کے شعبے کو اہم قرار دیا اور کہا کہ روبوٹک سرجری سمیت دیگر جدید طریقے اس شعبے میں مزید تحقیق کا راستہ ہموار کر رہے ہیں، جو قابل ستائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے ضم اضلاع کے لوگ صحت کے حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں اور پاکستان یورولوجیکل ایسوسی ایشن اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

گورنر نے میڈیکل فیکلٹی کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ دیگر صوبوں کی نقل کے بجائے ان سے بہتر نظام قائم کر سکتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرز کے مسائل کے حل اور تقریباً 70 ہزار ڈاکٹرز کی کم تنخواہوں کے معاملے پر توجہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ 13 برس گزرنے کے باوجود چلڈرن اسپتال مکمل نہیں ہوا اور گزشتہ 13 برسوں میں صوبے میں کوئی نیا اسپتال تعمیر نہیں ہو سکا، تاہم اب ڈاکٹر کمیونٹی کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ مریضوں کو دوسرے صوبوں جانے کی بجائے مقامی سطح پر ہی علاج کی سہولت میسر آ سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں