سکھ رہنما کا مطالبہ: بھگونت مان کو پاکستان آنا چاہیے اور کرتارپور راہداری بند نہ رکھی جائے
کینیڈا میں مقیم سکھ رہنما سادھو بھوپیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت کرتارپور راہداری بند رکھ کر مذہبی آزادی کو سیاسی تنازعات کی نذر کر رہا ہے، جبکہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے ویزا عمل کو آسان بنا دیا ہے۔

کینیڈا میں مقیم سکھ رہنما اور ورلڈ انٹرفیتھ ہارمنی کونسل کے صدر سادھو بھوپیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کو پاکستان آنا چاہیے اور مذہبی معاملات کو سیاسی کشمکش سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ لاہور میں ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باوجود مذہبی اور ثقافتی روابط برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ سکھ یاتریوں کی آمدورفت میں حائل رکاوٹیں دور ہو سکیں۔
انہوں نے کرتارپور راہداری کی بندش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کی زیارت اور مذہبی آزادی کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے بقول پاکستان نے روزانہ پانچ ہزار سکھ یاتریوں کی آمدورفت کے لیے انتظامات کیے ہیں، لیکن بھارت کی جانب سے صرف محدود تعداد میں یاتریوں کو اجازت دی جاتی رہی ہے، جس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب زیارت کو بنیادی حق مانا جاتا ہے تو پھر رکاوٹیں کیوں برقرار رکھی جا رہی ہیں۔
سکھ رہنما نے بتایا کہ پاکستان نے دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری کے لیے ویزا حاصل کرنے کا عمل آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو قیام پاکستان کے بعد اس برادری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں مقیم سکھ آن لائن پورٹل کے ذریعے پاکستانی ویزے کے لیے درخواست دے سکیں گے اور انہیں اپنے آبائی ملک کا نام درج کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اس سلسلے میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کی کوششوں کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار رمیش سنگھ اروڑا کا شکریہ ادا کیا۔
بھگونت مان کو پاکستان میں پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت اور مبینہ طور پر بھارتی حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے معاملے پر سادھو بھوپیندر سنگھ نے کہا کہ اگر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پاکستان آنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی خواہش کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے تاکہ دنیا جان سکے کہ مذہبی اور ثقافتی روابط کے راستے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی آزادی اقوام متحدہ کے چارٹر میں تسلیم شدہ حق ہے اور کسی برادری کو اپنے مذہبی ورثے اور مقدس مقامات سے دور نہیں کیا جانا چاہیے۔
نوجوان سکھ یاتریوں کی کم تعداد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان پاکستان یا بابا گرو نانک دیو جی کی دھرتی سے محبت نہیں رکھتے۔ دنیا بھر میں مقیم سکھ نوجوان پاکستان آنا چاہتے ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی تقریبات کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان یاتری اس موقع سے مستفید ہو سکیں۔









