مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع: ایکش کوڈیش سے نئی چوکیوں تک
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی رفتار گزشتہ تین سال میں بے مثال حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں درجنوں نئی چوکیوں کو قانونی حیثیت دی گئی اور فلسطینی دیہات پر تشدد میں شدید اضافہ ہوا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی زیرِ نگرانی یہودی بستیوں اور غیر منظور شدہ چوکیوں کی توسیع ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی سابقہ اسرائیلی حکومت نے اتنی تیزی اور جارحیت کے ساتھ بستیوں کی توسیع نہیں کی جتنی گزشتہ تین سال کے دوران دیکھی گئی، اور اس کی اہم وجہ کابینہ میں انتہا پسند یہودی جماعتوں کی شمولیت بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 1967ء سے 2022ء کے درمیان مغربی کنارے میں بستیوں اور چوکیوں کے قیام کی اوسط رفتار سالانہ تقریباً چھ رہی، تاہم دسمبر 2022ء میں موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے مزید 267 نئی چوکیاں یا بستیاں قائم کی گئیں اور ان میں سے 104 کو باضابطہ قانونی حیثیت دے دی گئی۔ اس عرصے میں توسیع کی رفتار میں تقریباً دس گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایک نمایاں مثال ’ایش کوڈیش‘ نامی بستی کی ہے، جو پہلے 2000ء میں ایک غیر قانونی پیشگی چوکی کے طور پر قائم کی گئی تھی اور عارضی مکانات سے شروع ہو کر ایک وسیع بستی کی شکل اختیار کر گئی۔ دسمبر 2025ء میں اسے قانونی حیثیت دی گئی، جس کے بعد قریبی فلسطینی دیہات قصیریٰ اور جالود پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح گزشتہ اگست میں اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کو اپنی زمین قرار دیتے ہوئے مسلسل بستیاں تعمیر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
آزاد تحقیقی ادارے اے سی ایل ای ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق بستیوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔ 2026ء کے دوران اب تک پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں سے تقریباً 49 فیصد ایسی زرعی چوکیوں کے تین کلومیٹر کے دائرے میں رونما ہوئے جو اسی سال قائم کی گئیں، جبکہ 2023ء سے 2026ء کے درمیان نئی چوکیوں کے قریب تشدد کے واقعات میں چار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔
یہ تشدد کئی صورتوں میں سامنے آ رہا ہے، جن میں فلسطینی کسانوں اور چرواہوں پر حملے، زیتون کے درختوں کی تباہی اور فصلوں و مویشیوں کی لوٹ مار شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بستیوں کی توسیع نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے مستقبل میں قیامِ فلسطین کے تصور کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ہے، اور حالیہ تبدیلیوں کو واپس پلٹانا انتہائی مشکل ہو گا۔









