around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

چودھری رحمت علی کی پاکستان اسکیم اور مجلس کبیر پاکستان کی فکری خدمات

پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چودھری رحمت علی نے 1933 میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی، جبکہ لاہور میں مجلس کبیر پاکستان کے نوجوان مفکروں نے تحریک پاکستان کے لیے فکری زمین ہموار کی۔

around.pk·1h ago

برصغیر میں مسلمانوں کی تقریباً آٹھ صدیوں کی حکمرانی کے بعد برطانوی سامراج کے سامنے شکست ہوئی، لیکن بیسویں صدی کے آغاز میں منتشر مسلمانوں میں تنظیموں اور انجمنوں کی صورت میں یکجائی کا احساس ابھرنے لگا۔ اسی پس منظر میں چودھری رحمت علی نے 1933 میں اس دیرینہ احساسِ تشخص کو واضح جغرافیائی خدوخال دیے اور پاکستان کے نام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے پاکستان نیشنل موومنٹ کے نام سے سات اصولوں پر مبنی تحریک کی بنیاد رکھی اور اس حوالے سے ایک پمفلٹ بھی شائع کیا۔

چودھری رحمت علی 16 نومبر 1897 کو ضلع ہوشیار پور کے موضع موہر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بالا چور اور راہوں میں حاصل کرنے کے بعد 1914 میں میٹرک پاس کیا اور اسی سال اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا، جہاں سے 1919 میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ دورانِ تعلیم انہوں نے کالج کے مجلے کی ادارت کی اور 1915 میں بزم شبلی کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں انہوں نے لا کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی اور 1930 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے، جہاں 1933 میں بی اے اور 1940 میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

1933 میں پاکستان کے نام اور نقشے کی تجویز کے بعد فکری اور منطقی اختلافات کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس نظریے کے خلاف بھرپور قلمی مخالفت کا آغاز ہوا۔ اس ردعمل میں ہندو دانشور، قوم پرست مسلمان اور حکمران انگریز سبھی شامل تھے۔ اسے روکنے کے لیے 1937 اور 1940 کے درمیانی عرصے میں رحمت علی کے افکار سے متاثر چند نوجوان مفکروں نے مجلس کبیر پاکستان کے نام سے ایک فکری حلقہ قائم کیا اور اپنے مضامین کے ذریعے قرارداد پاکستان کے لیے زمین ہموار کی۔

اس قلمی جدوجہد میں مرزا عبداللہ انور بیگ، خورشید عالم، احمد بشیر، ظفر علی گوندل اور محمد یونس جیسے نام نمایاں ہیں۔ مرزا عبداللہ انور بیگ 1907 میں ضلع فیروز پور کے ایک پرانے مغل خاندان میں پیدا ہوئے اور 1931 میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ انہوں نے مسلم آؤٹ لک، ٹریبیون، ایسٹرن ٹائمز اور سول اینڈ ملٹری گزٹ جیسے اخبارات میں صحافتی تجربہ حاصل کیا اور 1933 میں اورینٹل کالج سے ایم اے فارسی جبکہ 1936 میں لا کالج لاہور سے ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔

مرزا عبداللہ انور بیگ نے دوستوں کے ساتھ عالمگیر ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور اپنی تحریروں کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلانے اور آئندہ سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر متحرک رکھنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ان کی کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ چودھری رحمت علی نے تحریک کے دوران شائع ہونے والے پمفلٹ اور کتابچے باقاعدگی سے ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں کو بھجوائے، جن سے مختلف طلبہ تنظیموں نے استفادہ کیا۔ مارچ 1940 میں وہ کراچی تشریف لائے اور مجلس کبیر پاکستان کے اراکین سے ملاقات کی۔

تاریخ میں یہ منفرد مثال ہے کہ کسی ملک کے قیام سے برسوں پہلے اس کا نام، تصور اور حدود کسی شخص کے ذہن میں جنم لے کر عملی طور پر وقوع پذیر ہوئے۔ یہ سہرا چودھری رحمت علی کے سر ہے، جنہوں نے لفظ پاکستان تخلیق کیا اور اس کے قیام کے لیے قلمی تحریک کا آغاز خود کیا۔ ان کا انتقال 3 فروری 1951 کو کیمبرج، انگلستان میں ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں