around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
دنیا

1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن کیسے بدلا؟

ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد خطے میں پراکسی جنگوں اور علاقائی نیٹ ورک کے ذریعے طاقت کے توازن میں اہم تبدیلی آئی، جس سے اسرائیل کے خلاف متحد عرب محاذ کمزور پڑا۔

around.pk·1h ago

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو محض نعروں یا سازشوں کی عینک سے سمجھنا آسان تو ہے، لیکن تاریخ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد خطے میں طاقت کے توازن میں ایسی تبدیلی آئی کہ اسرائیل کے خلاف متحد عرب محاذ کمزور پڑ گیا؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے تاریخ، جنگوں اور زمینی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ یہ درست نہیں کہ عرب ممالک نے کبھی اسرائیل کے خلاف جنگ نہیں کی۔ 1948 میں مصر، اردن، شام، لبنان اور عراق کی افواج جنگ میں شامل ہوئیں، جبکہ سعودی عرب نے بھی ایک فوجی دستہ بھیجا جو مصری کمان کے تحت لڑا۔ 1956 میں مصر نے نہرِ سویز کے بحران میں اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کا مقابلہ کیا۔ 1967 میں مصر، اردن اور شام اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے اور اسرائیل نے صرف چھ روز میں سینائی، غزہ، مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔

اس کے بعد 1973 کی جنگ آئی، جب مصر اور شام نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا اور ابتدائی مرحلے میں اسرائیل کو شدید فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم جنگ کے اختتام تک اسرائیل نے اپنی پوزیشن دوبارہ مستحکم کر لی۔ عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے امریکا اور بعض مغربی ممالک پر تیل کی پابندی نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا۔ اس تاریخ سے ایک سبق واضح ہے کہ عرب ریاستوں نے اسرائیل کے خلاف جنگیں ضرور لڑیں، مگر ان میں عرب اتحاد کبھی مستقل اور یکساں نہیں رہا۔

1979 کا ایرانی انقلاب مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک بنیادی جغرافیائی اور سیاسی تبدیلی تھا۔ شاہِ ایران کی مغرب نواز حکومت ختم ہوئی اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوا۔ نئی ایرانی قیادت نے انقلاب کو خطے میں پھیلانے اور مغربی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنایا۔ یہیں سے ایک نئی علاقائی کشمکش نے جنم لیا۔

ایران نے براہِ راست روایتی جنگ کے بجائے مختلف مسلح گروہوں کے ساتھ تعلقات، مالی معاونت، تربیت اور اسلحے کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ آج اسے عموماً ایران کے علاقائی مسلح نیٹ ورک یا محورِ مزاحمت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ، عراق کے متعدد مسلح گروہ، یمن کے حوثی اور فلسطینی علاقوں کے بعض گروہ شامل رہے ہیں۔

تاہم یہ کہنا کہ ایران نے ان تمام عرب ممالک میں پراکسیز بنائیں جنہوں نے اسرائیل سے جنگ کی، تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ کرنا ہوگا۔ مثلاً حزب اللہ کا قیام 1980 کی دہائی میں لبنان پر اسرائیلی قبضے اور لبنانی شیعہ سیاست کے مخصوص حالات میں ہوا، جسے ایران اور پاسدارانِ انقلاب نے مالی و عسکری مدد فراہم کی۔ اسی طرح شام میں ایران کا کردار بشار الاسد کی حکومت کی حمایت سے جڑا رہا، عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کا اثر 2003 کے بعد کے حالات اور داعش کے خلاف جنگ سے وابستہ رہا، جبکہ یمن میں حوثی تحریک کی جڑیں مقامی زیدی سیاست اور یمنی ریاست کے ساتھ طویل تنازع میں ہیں۔ ایران نے بعد کے مرحلے میں حوثیوں کو مدد، ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کی، لیکن انہیں محض ایرانی ایجاد قرار دینا بھی تاریخی پیچیدگی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں