ایران جنگ میں کمی کی امید، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دو ماہ کی کم ترین سطح پر
ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں کشیدگی کم ہونے یا جنگ ختم ہونے کی توقعات کے باعث عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں اور دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان جاری ہے اور یہ کمی ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں شدت کم ہونے یا جنگ کے ممکنہ خاتمے کی توقعات سے منسوب کی جا رہی ہے۔ جمعرات کو ایشیائی تجارتی سیشن کے دوران برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتیں نیچے آئیں اور تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح تک پہنچ گئیں۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 0.9 فیصد کمی واقع ہوئی جس کے بعد یہ 93.74 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1.5 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 86.83 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل بدھ کو بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آٹھ فیصد سے زائد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ توانائی کی منڈیوں میں حالیہ کمی کی اہم وجہ ایران سے متعلق تنازعے میں کشیدگی میں کمی اور ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کی امید قرار دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تنازعہ مزید کم ہوتا ہے تو سپلائی کے خدشات میں نرمی آ سکتی ہے جس کا براہ راست اثر تیل کی بین الاقوامی قیمتوں پر پڑے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کو ہونے والی بڑی گراوٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات ری پبلکن پارٹی کی انتخابی شکستوں کی ایک وجہ بنے۔ ان کے اس بیان نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ توانائی کی قیمتیں صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
عالمی توانائی منڈی کی نظریں فی الوقت ایران جنگ کے مستقبل سے متعلق پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ ہر نئی خبر قیمتوں کے رجحان کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو تیل کی قیمتیں مزید نیچے آ سکتی ہیں، جبکہ کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں منڈی میں اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار رہے گا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوتا ہے، کیونکہ توانائی کی کم قیمتیں درآمد کنندہ ممالک کے لیے اخراجات میں کمی اور مہنگائی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے درآمد کنندہ ملک کے لیے بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں کا مستحکم رہنا یا کم ہونا توانائی کے بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے، تاہم حتمی فائدہ عالمی رجحان کے تسلسل پر منحصر ہوگا۔










