around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 26°
صحت

جناح اسپتال کراچی: لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے باوجود تین ماہ میں جنریٹر ڈیزل پر 52 لاکھ روپے سے زائد خرچ

سندھ کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جناح کراچی میں جولائی تا ستمبر جنریٹرز کے لیے ڈیزل پر 52 لاکھ 56 ہزار روپے خرچ ہونے کا انکشاف، حالیہ طویل بجلی بندش کے دوران ہنگامی جنریٹرز بھی ناکام رہے۔

around.pk·2h ago

کراچی کے جناح اسپتال، جو سندھ کا سب سے بڑا سرکاری طبی ادارہ ہے، میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی سہولت موجود ہونے کے باوجود گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران جنریٹرز کے ایندھن پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ دستاویزات کے مطابق جولائی سے ستمبر تک جنریٹرز کے لیے ڈیزل کی خریداری اور استعمال پر مجموعی طور پر 52 لاکھ 56 ہزار 248 روپے خرچ کیے گئے۔

یہ اخراجات ایسے ادارے میں سامنے آئے ہیں جسے باضابطہ طور پر لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ شب بجلی کی طویل بندش کے دوران اسپتال کے ہنگامی جنریٹرز بھی کام نہیں کر سکے، جس کے نتیجے میں آئی سی یو میں زیر علاج دو مریضوں کے جاں بحل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ درجنوں دیگر مریضوں کی حالت بگڑنے کی بھی خبریں موصول ہوئیں۔

تاہم اسپتال انتظامیہ نے ان دونوں اموات کا بجلی کی بندش سے تعلق مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ متاثرہ مریض پہلے ہی شدید علیل اور تشویشناک حالت میں تھے اور ان کی موت بنیادی طبی پیچیدگیوں کے باعث واقع ہوئی۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ جناح اسپتال کو لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے اور گزشتہ شب بجلی میں تعطل اسپتال کے اندرونی نظام کی خرابی کے باعث پیش آیا، جس کا کمپنی کے انفراسٹرکچر سے کوئی تعلق نہیں۔

اسپتال انتظامیہ نے بندش کے دوران ہنگامی جنریٹرز فعال نہ ہونے کی وجہ سافٹ ویئر میں تکنیکی خرابی قرار دی ہے۔ جناح اسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر یحییٰ تنیو کے مطابق ادارے میں اکثر فنی خرابیاں اور بجلی کے فالٹ رونما ہوتے رہتے ہیں جن کے دوران متبادل بجلی کے لیے جنریٹرز چلائے جاتے ہیں، جبکہ تکنیکی معائنے اور چیکنگ کے لیے بھی وقتاً فوقتاً انہیں فعال کیا جاتا ہے۔

تاہم ڈپٹی ڈائریکٹر نے یہ تسلیم کیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ڈیزل پر خرچ ہونے والی رقم اور استعمال شدہ ایندھن کی مجموعی مقدار کے اعدادوشمار فی الحال ان کے پاس موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے جنریٹرز سے متعلق سوالات کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خالصتاً تکنیکی نوعیت کے معاملات ہیں جن پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔ یہ معاملہ صحت کے بنیادی ڈھانچے میں شفافیت اور ہنگامی نظام کی کارکردگی سے متعلق سوالات کو بھی جنم دے رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں