خیبرپختونخوا کو وفاق سے 160 ارب روپے کا پیکج مل گیا، گورنر فیصل کریم کنڈی
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبے کو 160 ارب روپے کا پیکج فراہم کیا ہے، اور وزیراعظم کے ساتھ مل کر صوبے کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبے کو 160 ارب روپے کا پیکج فراہم کیا ہے، جس پر وہ وفاق کے شکر گزار ہیں۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کے مسائل وزیراعظم کے ساتھ مل کر حل کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مفادات کے لیے آواز اٹھائی گئی اور پیکج کے حوالے سے جو سفارشات وفاق کو بھیجی گئیں، ان پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور جنرل سیکرٹری کے دستخط بھی موجود تھے۔ گورنر نے واضح کیا کہ وہ وفاق کے سامنے صوبے کا مؤقف نہ صرف پیش کر رہے ہیں بلکہ اسے حل کروانے کے لیے عملی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ چشمہ لفٹ کینال کے منصوبے پر بھی بات چیت ہو چکی ہے اور اسے جلد شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سب سے پہلے دہشت گردی کی روک تھام ہے، جس کے بعد ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وہ رنگ روڈ انڈر پاس کی تعمیر کا معائنہ کرنے آئے تھے اور دسمبر کے پہلے ہفتے میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق انڈر پاس مکمل ہونے سے رنگ روڈ پر ٹریفک کے مسائل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور کے مختلف علاقوں بشمول یونیورسٹی روڈ اور نادرن بائی پاس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انسداد تجاوزات کی کارروائی کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ اگر ڈی آئی خان میں ان کا فارم ہاؤس تجاویز پر قائم ہے تو وہ انتظامیہ کو اسے گرانے کی اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جو لوگ تجاویزات کے مرتکب ہیں وہ خود اپنی تعمیرات ہٹا دیں تاکہ کارروائی کے دوران کسی کو نقصان نہ پہنچے۔
اس موقع پر گورنر نے نادار کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے قتل کے واقعے کو افسوسناک قرار دیا اور بتایا کہ اس واقعے میں رکن قومی اسمبلی نور عالم کے بھانجے جاں بحق ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔







