around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 35°☀ لاہور 29°⛅ اسلام آباد 25°
کاروبار

سندھ ہائی کورٹ کا اربوں روپے کے رہن شدہ سامان کی چوری کے مقدمے میں بینکنگ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے 1.105 ملین ڈالر مالیت کے رہن شدہ سامان کی چوری سے متعلق مقدمے میں بینکنگ کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، کیس کی سماعت جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں ہوئی۔

around.pk·1h ago

سندھ ہائی کورٹ نے اربوں روپے مالیت کے رہن شدہ سامان کی مبینہ چوری سے متعلق ایک اہم مقدمے میں بینکنگ کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ کیس نجی بینک کے افسر آصف رضا کی جانب سے نجی کمپنی کے مالک طارق شفیع، ان کے بیٹوں اور دیگر افراد کے خلاف دائر کیا گیا تھا، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 1.105 ملین امریکی ڈالر مالیت کا رہن شدہ سامان چوری کیا۔

ملزمان کے خلاف یہ مقدمہ 2020 میں ایف آئی اے کے بینکنگ سرکل نے درج کیا تھا۔ بینکنگ کورٹ کے فیصلے کو طارق شفیع اور دیگر نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر آج جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں قائم بینچ نے سماعت مکمل کی اور درخواست پر فیصلہ سنایا۔

بینکنگ کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلے میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ سائیڈ کلوز ہونے کے بعد کسی نئے گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکتا، جسے ہائی کورٹ نے قانونی طور پر درست قرار نہیں دیا اور مذکورہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد کیس کی مزید کارروائی متعلقہ فورم پر دوبارہ زیر غور آئے گی۔

قابل ذکر ہے کہ بینکنگ اور مالیاتی تنازعات سے متعلق مقدمات میں قانونی طریقہ کار کی پابندی انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ رہن شدہ اثاثوں اور بینکوں کے تحفظات سے جڑے معاملات میں شفاف عدالتی کارروائی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مالیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیر سماعت مقدمات میں گواہان کی شمولیت اور شواہد کی سماعت سے متعلق ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ فریقین کو انصاف کی مکمل فراہمی ممکن ہو سکے۔ اس کیس کا اثر کاروباری اور بینکاری حلقوں میں خاصا اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں