شام اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ، 403 ملین ڈالر کے قرضوں پر بھی اتفاق
شامی صدر احمد الشرع کے ریاض دورے کے دوران سعودی عرب اور شام نے دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جبکہ تعمیرِ نو، توانائی، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 403 ملین ڈالر سے زائد کے رعایتی قرضوں پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

شام اور سعودی عرب نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ شامی صدر احمد الشرع کے ریاض کے دورے کے موقع پر طے پایا، جہاں ان کی سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا۔
شامی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کی وزارتِ دفاع کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ دورے کے دوران طے پانے والے اہم ترین معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم معاہدے کی تفصیلات، دفاعی تعاون کی نوعیت اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو ابھی ظاہر نہیں کیا گیا۔
دفاعی تعاون کے علاوہ سعودی عرب نے شام میں تعمیرِ نو، توانائی، صحت، رہائش اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 403 ملین ڈالر سے زائد کے رعایتی قرضے فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ مالی معاونت شام کی معیشت اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب یمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور سکیورٹی کردار کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ شام کے لیے یہ اقتصادی بحالی اور بین الاقوامی شراکت داری کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں یہ پیش رفت گذشتہ برسوں کی نسبت نمایاں تبدیلی ظاہر کرتی ہے اور اس کے اثرات نہ صرف دو طرفہ تجارت بلکہ علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔










