around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 32°☀ لاہور 25°☀ اسلام آباد 21°
دنیا

آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز مبینہ طور پر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔

around.pk·2h ago

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ایک روز قبل بھی پانچ دیگر تیل بردار جہازوں کے ساتھ اسی نوعیت کے واقعات کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دونوں جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے غیر مجاز راستہ اختیار کیا تھا، جن میں سے ایک جہاز آبنائے کے مشرقی حصے میں جبکہ دوسرا آبنائے کے اندر موجود تھا۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ دونوں جہازوں نے اپنے نیوی گیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور امریکی فوج کی مدد سے آبنائے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ میں گھر گئے اور رک گئے۔

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی مجموعی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔

ایران کے ان اقدامات کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تیل بردار جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ اس نے موسمِ گرما سے اب تک خلیجی ممالک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے ڈیڑھ ارب بیرل تیل برآمد کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

امریکی کمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں، جس کے باعث ایرانی دعووں اور امریکی مؤقف میں واضح تضاد موجود ہے۔ اس تضاد کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین ان دعووں کی آزادانہ تصدیق پر زور دے رہے ہیں۔

اس دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امیرِ قطر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے، اس لیے اس معاملے پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی منڈیوں میں توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک ایسا بحری راستہ ہے جس کی بندش یا محدودیت نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے، اور اسی لیے اس حوالے سے ہر اہم اطلاع کو بین الاقوامی توجہ حاصل رہتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں