around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 24°
دنیا

قطر کے امیر اور صدر ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو، خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں تیز

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور کشیدگی ختم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

around.pk·8m ago

دوحہ میں قطری حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے میں جاری بحران کے خاتمے اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے قطر کی ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطر اس وقت خطے کے بحران کے حل کے لیے فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے مذاکرات کی فضا ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ٹیلی فونک رابطے کو اس سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکا کو جوہری معاملے سے متعلق ایک تجویز پیش کی ہے، جس کا واشنگٹن اس وقت جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم عہدیدار کے مطابق کسی بھی باضابطہ بات چیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا پہلے ایران کے سات مطالبات پورے کرے۔ ایرانی عہدیدار نے ان مطالبات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ قطر کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں جاری ہیں، تاہم مذاکرات کی بحالی اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کا دارومدار دونوں ممالک کے مؤقف میں پیش رفت پر ہے۔ اس وقت دونوں فریقوں کی جانب سے سنجیدہ لچک دکھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور تجارتی راستوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر خلیجی ریاستوں کی جانب سے سفارتی حل کے لیے کوششیں تیز کی گئی ہیں۔ قطر کی ثالثی کو اس پس منظر میں خاصی اہمیت حاصل ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ آئندہ چند ہفتے اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ کسی بھی پیش رفت کا اثر نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑے گا۔ فی الحال تمام فریقین کی جانب سے سفارتی کوششوں کے جاری رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں