تھر کے کوئلے سے صنعتی ترقی: کان کنی کی سالانہ صلاحیت 11.2 ملین ٹن تک بڑھا دی گئی
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ تھر کول بلاک ٹو کی سالانہ پیداواری صلاحیت 7.6 ملین ٹن سے بڑھا کر 11.2 ملین ٹن کر دی گئی ہے، جبکہ کوئلے کو صرف بجلی کی پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے صنعتی خام مال کے طور پر استعمال کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ تھر کے کوئلے کو صرف بجلی کی پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے صنعتی ترقی کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تھر کول بلاک ٹو کی سالانہ پیداواری صلاحیت 7.6 ملین ٹن سے بڑھا کر 11.2 ملین ٹن کر دی گئی ہے، جس سے کوئلے کی پیداوار میں سالانہ 3.6 ملین ٹن کا اضافہ ہوا ہے۔
سینئر وزیر نے بتایا کہ بجلی گھروں کے علاوہ دیگر صنعتی شعبوں کو بھی کوئلے کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے کوئلے کو صنعتی استعمال کے لیے بہتر بنانے کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے، جس سے مقامی کوئلہ مختلف صنعتوں کے لیے خام مال کے طور پر استعمال ہو سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تھر کو قومی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے منصوبے پر 68 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس رابطے سے کوئلے کی نقل و حمل کو مضبوط بنیاد ملے گی اور صنعتی خریداروں تک رسائی آسان ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دیگر صنعتی خریداروں کو کوئلے کی فروخت کے اخراجات بجلی صارفین کے ٹیرف پر منتقل نہیں کیے جائیں گے۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق مقامی کوئلے سے کول گیسیفکیشن، میتھانول اور کیمیکلز کی تیاری میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ حکومت کوئلے کو صنعتی خام مال کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات پر کام کر رہی ہے تاکہ تھر کے قدرتی وسائل کو جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی مدد سے ملکی صنعتی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مقامی وسائل کے بہتر استعمال سے توانائی کے تحفظ اور معاشی خودمختاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور مقامی توانائی کے ذرائع کو صنعتی ترقی سے جوڑنے پر زور دیا جا رہا ہے۔











