حکومت نے 12 لاکھ نان فائلر تاجروں کے خلاف کارروائی مؤخر کر دی، مزید 3 ماہ کی مہلت پر غور
حکومت نے فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شامل نہ ہونے والے تقریباً 12 لاکھ نان فائلر دکانداروں کے خلاف کارروائی مؤخر کرتے ہوئے مزید تین ماہ کی مہلت دینے کی تجویز زیر غور رکھی ہے، جبکہ اب تک صرف 222 نئے تاجروں نے گوشوارے جمع کرائے ہیں۔

حکومت نے نئے فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شامل نہ ہونے والے تقریباً 12 لاکھ نان فائلر دکانداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان تاجروں کو مزید تین ماہ کی مہلت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کا حتمی فیصلہ وزارت خزانہ کی سطح پر جلد متوقع ہے۔
ٹیکس حکام نے رواں ہفتے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے سامنے دو تجاویز پیش کیں۔ پہلی تجویز کے تحت تاجروں کو 31 جنوری 2027 تک گوشوارے جمع کرانے کی اجازت دی جائے گی، تاہم تاخیر کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 85 ہزار روپے سرچارج ادا کرنا ہوگا، جو معمول کے ٹیکس نظام کے تحت عائد جرمانے سے 90 ہزار روپے کم ہے۔ دوسری تجویز میں معمول کے انکم ٹیکس قوانین کے تحت کارروائی شامل ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک لاکھ 75 ہزار روپے جرمانہ، ٹیکس آڈٹ اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنا لازم ہوں گے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ حکومت کسی بھی کارروائی سے قبل اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لے گی، تاہم اسکیم میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے فکسڈ ٹیکس اسکیم کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔
واضح رہے کہ حکومت نے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کے تحت مجموعی فروخت پر صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا تھا، جبکہ آڈٹ سے استثنیٰ اور نقد لین دین کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ توقع تھی کہ 38 لاکھ نان فائلر تاجروں میں سے کم از کم 10 لاکھ اسکیم میں شامل ہوں گے اور 50 ارب روپے ٹیکس وصول ہوگا، لیکن 31 اکتوبر کی آخری تاریخ تک صرف 222 نئے تاجروں نے گوشوارے جمع کرائے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس حکام نے تقریباً 15 لاکھ ایسے دکانداروں کی نشاندہی کی ہے جو اسکیم کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جن میں سے صرف 2 لاکھ 90 ہزار پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ تھے۔ تجویز کے مطابق نومبر کے اختتام تک 10 ہزار، دسمبر تک 35 ہزار اور جنوری 2027 کے اختتام تک 85 ہزار روپے جرمانہ ادا کرکے گوشوارے جمع کرانے کی سہولت دی جا سکتی ہے۔ ٹیکس حکام کا موقف ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 214 اے کے تحت چھوٹے دکانداروں کو عمومی رعایت دی جا سکتی ہے، تاہم دیگر ٹیکس دہندگان کے ساتھ امتیازی سلوک کا قانونی سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین نوید قمر نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا حکومت تاجروں کی ہڑتال کی دھمکیوں کے باوجود ان کے خلاف جرمانے اور قانونی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس حوالے سے حتمی اقدام کا انحصار قانونی رائے اور وزارت خزانہ کے فیصلے پر ہوگا۔











