لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار، ملتان میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ گئی
آئی کیو ایئر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور 458 اے کیو آئی کے ساتھ دنیا بھر کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں پہلے نمبر پر آ گیا، جبکہ ملتان میں فضائی آلودگی کی سطح 719 تک پہنچ گئی۔

لاہور میں فضائی آلودگی کی شدت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور شہر 458 ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ دنیا بھر کے آلودہ ترین بڑے شہروں کی فہرست میں پہلی پوزیشن پر آ گیا ہے۔ فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق اس فہرست میں بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی 244 انڈیکس کے ساتھ دوسرے جبکہ کولکتہ 235 کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب کے کئی شہروں اور علاقوں میں بھی فضائی آلودگی خطرناک سطح پر برقرار ہے۔ ملتان میں ایئر کوالٹی انڈیکس 719 ریکارڈ کیا گیا، جو اسے اس وقت ملک کے انتہائی آلودہ علاقوں میں شامل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کاہنہ نو میں 655، سی ای آر پی آفس میں 611، برکی روڈ پیراگون میں 609، علامہ اقبال ٹاؤن میں 583 اور رائیونڈ میں 511 کی سطح ریکارڈ ہوئی۔
لاہور کے مختلف مقامات پر بھی آلودگی کی صورتحال تشویشناک رہی۔ کاہنہ نو، ملتان روڈ اور سفاری پارک میں ایئر کوالٹی انڈیکس 500 تک جا پہنچا، جبکہ گلبرگ تھری میں 483، برکی روڈ پر 482، اے آر سی لاہور میں 456 اور ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں 447 کی سطح نوٹ کی گئی۔
پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور میں صبح سات بجے آلودگی کی سطح 430 ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 70 پوائنٹس زیادہ ہے۔ صوبے میں قصور 462 انڈیکس کے ساتھ پہلے اور لاہور 430 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دیگر اضلاع میں وہاڑی میں 378، پاکپتن میں 374، راجن پور میں 366، جھنگ میں 346 اور مظفرگڑھ میں 340 کی سطح ریکارڈ کی گئی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں 439 اور ڈی ایچ اے فیز 6 و جی ٹی روڈ پر 404 انڈیکس ریکارڈ ہوا۔
فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں رہنے والے شہریوں کو صحت کے حوالے سے شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سطح کی آلودگی سانس، دل اور دیگر امراض کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے یہ صورتحال زیادہ سنگین ہے۔
واضح رہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس میں 300 سے زائد سطح کو صحت کے لیے انتہائی مضر سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، ماسک کا استعمال کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔







