around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

کراچی: منشیات فروش سے مبینہ گفتگو کی آڈیو پر ایس ایچ او پاک کالونی کے خلاف انکوائری کا حکم

ایس ایس پی کیماڑی نے ایس ایچ او پاک کالونی کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے، الزام ہے کہ انسپکٹر نے ایک منشیات فروش سے غیر مجاز گفتگو کی اور ماتحت کانسٹیبل سے معافی مانگنے کو کہا۔

around.pk·1h ago

کراچی کے ضلع کیماڑی میں پولیس حکام نے ایس ایچ او پاک کالونی انسپکٹر فیصل گل کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کیماڑی سنگھار ملک کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں ایس ڈی پی او بلدیہ سب ڈویژن کو انکوائری افسر نامزد کیا گیا ہے، جسے سات دن کے اندر اپنی سفارشات کے ساتھ مکمل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکم نامے کے مطابق گزشتہ برس پانچ نومبر کو سوشل میڈیا پر ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تھی۔ اس ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر انسپکٹر فیصل گل اور کانسٹیبل بلال کو ایک منشیات فروش کاشف عرف دادا کے ساتھ غیر مجاز اور سمجھوتہ آمیز گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔ الزامات کے مطابق اس گفتگو میں ایک مجرم کے ساتھ بھائی بندی اور مصالحت کی کوشش کی گئی، جبکہ ماتحت کانسٹیبل کو منشیات فروش سے معافی مانگنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

پولیس حکام نے اس عمل کو محکمہ پولیس کے نظم و ضبط کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ انکوائری افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے کر مقررہ مدت کے اندر حتمی سفارشات پیش کریں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صوبائی حکومت اور پولیس قیادت قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اصلاحات اور شفافیت پر زور دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے انکوائری کے شفاف اور غیر جانبدارانہ عمل کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔

دوسری جانب محکمہ پولیس کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آڈیو کی اصلیت اور اس میں موجود افراد کی شناخت کا تعین انکوائری کے دوران کیا جائے گا۔ رپورٹ مکمل ہونے کے بعد اسے متعلقہ فورم پر پیش کیا جائے گا، جہاں آئندہ کی قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

کیماڑی پولیس کی اس کارروائی کو محکمہ کے اندر جوابدہی کے عمل کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کی توقع ہے کہ انکوائری کے نتائج شفاف انداز میں سامنے آئیں گے اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا، تاکہ پولیس کے نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں