around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

پسند کی شادی کے جرم میں پورا خاندان قتل، اسکردو میں جوڑے اور دو بچیوں کا قتل عام

اسکردو میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو برسوں بعد تلاش کر کے ان کی دو کم سن بیٹیوں سمیت قتل کر دیا گیا، یہ واقعہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی بڑھتی ہوئی لہر کا تازہ ترین اور دلخراش پہلو ہے۔

around.pk·1h ago

اسکردو کے علاقے مدینہ کالونی میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا جہاں پسند کی شادی کرنے والے ایک جوڑے کو برسوں بعد تلاش کر کے ان کی دو کم سن بیٹیوں سمیت قتل کر دیا گیا۔ مقتولین میں پانچ سالہ اور ایک سالہ بچیاں بھی شامل ہیں جن کا کسی جرم میں کوئی کردار نہیں تھا۔ یہ جوڑا کراچی میں پسند کی شادی کے بعد جان بچانے کے لیے اسکردو منتقل ہوا تھا، مگر نامعلوم ملزمان نے وہاں بھی ان کا سراغ لگا کر انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق میاں بیوی اور ان کی دو بیٹیاں گھر میں موجود تھیں جب نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کیا اور فرار ہو گئے۔ اس واردات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے قانونی طور پر تو اپنا رشتہ رجسٹرڈ کرا لیتے ہیں اور عدالتوں سے تحفظ کی درخواستیں بھی دیتے ہیں، مگر عملی طور پر ان کی حفاظت کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ عدالتیں ایسے جوڑوں کو نکاح کی قانونی حیثیت تو فراہم کرتی ہیں اور وہ مقامی پریس کلبوں اور تھانوں کا رخ کر کے اپنے تحفظ کی اپیلیں بھی کرتے ہیں، لیکن پولیس اکثر انھیں مکمل تحفظ کی یقین دہانی نہیں دے پاتی۔ نتیجتاً یہ جوڑے مختلف شہروں میں چھپ کر خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور خاتون کے ورثا انھیں برسوں بعد بھی معاف نہیں کرتے۔

اس واقعے نے اس بحث کو بھی تازہ کر دیا ہے کہ معاشرے میں پسند کی شادی کو اب بھی ایک جرم سمجھا جاتا ہے۔ خطیب حضرات اور سماجی مبصرین مسلسل یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ اسلام میں نکاح کو آسان رکھا گیا ہے، مگر ہم نے خود شادیوں کو بے تحاشا مہنگا کر دیا ہے۔ جہیز، مہر اور ولیمے پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کا رواج عام ہے، جبکہ غریب گھرانوں کے لیے بیٹیوں کی شادی ممکن ہی نہیں رہی۔

ماہرین کے مطابق رشتے طے نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ خاندانوں اور برادریوں میں باہمی شادی نہ کرنے کا رواج بھی ہے۔ بعض مقامات پر مطلوبہ رقم ملنے پر ہی بیٹیاں دوسری برادریوں میں دی جاتی ہیں، جبکہ موبائل فون اور تعلیمی اداروں نے لڑکے لڑکیوں کے درمیان قربت کو بڑھایا ہے۔ جب خاندان راضی نہ ہوں تو وہ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، مگر شادی کے بعد تحفظ کا خوف ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ بعض کیسز میں لڑکی کے خاندان لڑکے والوں سے رقم لے کر صلح کا بہانہ بنا کر لڑکی کو واپس بلاتے ہیں اور بعد ازاں اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات کو کاروکاری کا نام دے کر ملزمان سزاؤں سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم کچھ شہری اور روشن خیال والدین اب بیٹیوں کے فیصلے قبول کرنے لگے ہیں اور کئی سال بعد تعلقات بحال کر کے معاملہ حل کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں، جو اس مسئلے کے حل کی ایک امید ہے۔

ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ اسکردو جیسا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ محض قانونی تحفظ کافی نہیں، بلکہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور ریاستی سطح پر مؤثر حفاظتی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور تحفظ کے مؤثر اقدامات فراہم کرے تاکہ کوئی بھی جوڑا اپنے جائز حق پر جان کی بازی نہ ہارے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں