ایرانی وزیر خارجہ کا سعودی ہم منصب سمیت خطے کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور خطے کے دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی ہے، جس میں علاقائی صورتحال اور امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم فریقین کی جانب سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اسی روز ایرانی وزیر خارجہ نے قطر، عمان، ترکیہ، اردن اور کویت کے اپنے ہم منصبوں سے بھی الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ بات چیت میں بحری راستوں کی حفاظت، جنگ کے خاتمے اور خطے میں دوبارہ کشیدگی روکنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس تبادلے کو خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے قطر سمیت کئی ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جس سے تجارتی اور معاشی مفادات بھی وابستہ ہیں۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2023 میں چین کی وساطت سے سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے۔ اس وقت بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں یمن اور علاقائی سلامتی کے معاملات حساس نوعیت کے حامل ہیں، جبکہ حالیہ ٹیلیفونک رابطوں کو اعتماد سازی کی سمت ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے کے ممالک کی باہمی مشاورت سے کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم اس نوعیت کے رابطوں کے حتمی نتائج کا انحصار آنے والے دنوں میں ہونے والی عملی پیش رفت پر ہوگا۔








