یمن تنازعہ: حوثیوں کا جنگ بندی کے لیے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب سے جنگ ختم کرنے کے لیے 51 ارب ڈالر معاوضے اور اپنی حکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے ابھی تک کسی معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب سے جنگ بندی کے لیے 51 ارب ڈالر کے معاوضے اور یمن میں اپنی حکمرانی کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ اطلاع وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس کے مطابق سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں اور آبنائے باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر قبضے کے بعد جنگ بندی کے امکانات جاننے کے لیے رابطہ کیا تھا۔
رپورٹ میں مذاکرات سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے 51 ارب ڈالر کی رقم سعودی فضائی حملوں اور یمن کی طویل ناکہ بندی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حوثیوں کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ سعودی عرب عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت ختم کر کے ان کی حکومت کو تسلیم کرے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان زمینی سطح پر مزید برتری حاصل کیے بغیر حوثیوں کے ساتھ جامع معاہدہ کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انہیں یمن میں مزید اتحادی افواج بھیجنے کی صورت میں بھاری جانی نقصان اور ملک کے اندر مخالفت کے بڑھنے کا خدشہ بھی لاحق ہے۔
ادھر ابھی تک سعودی عرب نے حوثیوں کے مالی یا سیاسی مطالبات تسلیم کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مذاکرات کے نتیجے میں کسی معاہدے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری ہیں، لیکن کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
واضح رہے کہ یمن میں جاری تنازعے نے خطے کی سمندری تجارت اور سلامتی کو شدید متاثر کیا ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم گزرگاہیں ہیں، اور حوثیوں کے حملوں کے باعث کئی جہاز رانی کمپنیوں نے اپنے راستے تبدیل کیے ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین اور تجارتی اخراجات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یمن میں پائیدار جنگ بندی کے لیے صرف فوجی یا مالی مطالبات کافی نہیں، بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے جامع سیاسی حل کی ضرورت ہے۔ اس تنازعے کا حل نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کی معاشی و سفارتی استحکام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔










