around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
دنیا

ایران میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو موت کی سزا اور پانچ سال قید کا حکم

ایرانی عدالت نے سوشل میڈیا پر سرگرم امیرحسین موسوی کو 'زمین میں فساد' کے الزام میں سزائے موت اور مذہبی مقدسات کی توہین کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں اور ملزم کی بہن نے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

around.pk·58m ago

ایران کی انقلابی عدالت نے سوشل میڈیا پر سرگرم ایک کارکن امیرحسین موسوی کو 'زمین میں فساد' کے الزام میں سزائے موت جبکہ مذہبی مقدسات کی توہین کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملزم ایکس اور انسٹاگرام پر اپنے اصل نام کے بجائے 'جیمز بی دین' اور 'جیمز بی ڈین' کے فرضی ناموں سے سرگرم تھا۔

ملزم کے وکیل رضا شفاخواہ نے بتایا کہ عدالت نے ان پر موت کی سزا کا حکم 'زمین میں فساد' کے الزام میں دیا، جبکہ علیحدہ طور پر مذہبی مقدسات کی توہین کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ اطلاعات کے مطابق امیرحسین موسوی کو شناخت ہونے کے بعد 18 دسمبر 2024 کو تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جزیرہ کیش جانے کی تیاری کر رہے تھے۔

ملزم کی بہن سعیدہ موسوی نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے بھائی کی جان بچانے کے لیے سزا منسوخ کی جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق امیرحسین موسوی نے دورانِ حراست 148 دن قیدِ تنہائی میں گزارے اور انہیں تشدد اور دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر ملزم کا ایک اعترافی بیان بھی نشر کیا گیا تھا، تاہم موسوی نے بعد ازاں جیل سے لکھے گئے ایک خط میں دعویٰ کیا کہ یہ بیان دباؤ اور دھمکیوں کے تحت ریکارڈ کرایا گیا تھا۔ یہ معاملہ ایران میں سوشل میڈیا سرگرمیوں کے حوالے سے سخت قانونی اقدامات کی جانب ایک بار پھر توجہ مبذول کروا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال پر کڑی پابندیاں عائد ہیں اور حکام ایسے مواد کو قومی سلامتی اور مذہبی اقدار کے خلاف سمجھتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان ایسے فیصلوں کو آزادیِ اظہار پر قدغن قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیلیں کرتے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی سزائیں ایران میں آن لائن سرگرمیوں کے خلاف حکام کی سخت گیری کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ ملزم کے اہل خانہ اور حقوق انسانی تنظیمیں فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں