around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

بی آئی ایس پی لاہور کی آڈٹ رپورٹ میں بڑی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لاہور کی آڈٹ رپورٹ میں ایک شخص کی سات بیویوں کی رجسٹریشن، گریڈ 17 تا 20 کے افسران کے استفادے اور 51 کروڑ روپے سے زائد کی نااہل ادائیگوں کا انکشاف ہوا ہے۔

around.pk·51m ago

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) لاہور کی تازہ آڈٹ رپورٹ میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہی شخص کی سات بیویاں پروگرام میں رجسٹرڈ پائی گئیں، جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک کے سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ بھی اس امدادی پروگرام سے مستفید ہوتے رہے۔ یہ انکشافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستحقین کی شناخت اور ادائیگیوں کے نظام میں کئی سطحوں پر خامیاں موجود ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق لاہور میں ایک ہی شناختی کارڈ پر متعدد افراد کو ادائیگیاں کی گئیں، اور مردوں نے بھی خواتین کے نام پر رقم حاصل کی۔ ایک شناختی کارڈ کے متعدد خواتین سے منسلک ہونے کے 5 ہزار 598 کیسز سامنے آئے جن میں 24 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے مختص امداد 450 سے زائد مردوں کو بھی منتقل ہوئی، اور مالی سال 2022 سے 2024 کے دوران غلط صنفی ریکارڈ کی بنیاد پر مردوں کو 76 لاکھ 41 ہزار روپے ادا کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ان کے شریک حیات بھی امداد وصول کرتے رہے۔ مجموعی طور پر 12 ہزار سے زائد سرکاری افسران اور ملازمین کو 51 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم دی گئی، جن میں گریڈ 17 سے 20 تک کے 107 افسران بھی شامل ہیں۔ قواعد کے تحت نااہل قرار دیے جانے والے 12 ہزار 78 افراد کو 51 کروڑ 57 لاکھ روپے سے زائد ادا کیے گئے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 7 ہزار غیر شادی شدہ خواتین کا ریکارڈ شادی شدہ درج پایا گیا، جس کے نتیجے میں 10 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زیادہ کی ادائیگیاں ہوئیں۔ تعلیمی وظائف کے معاملے میں بھی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جہاں 278 سرکاری ملازمین طالب علم کے طور پر رجسٹرڈ پائے گئے اور ان کی ماؤں کو 25 لاکھ 46 ہزار روپے ادا کیے گئے۔ جانچے گئے 23 کیسز میں متعلقہ افراد یا تو تعلیم مکمل کر چکے تھے یا زیر تعلیم نہیں تھے۔

رپورٹ میں طلبہ کی اسکالرشپ کے 13 کروڑ روپے سے زیادہ کی غیر مجاز منتقلی کا بھی انکشاف کیا گیا ہے، جبکہ پانچ جامعات نے اسکالرشپ فنڈز کے جائز استعمال کا ثبوت آڈٹ کو فراہم نہیں کیا۔ اسی طرح امدادی ادائیگیوں میں خردبرد کی 8 ہزار 907 شکایات آڈٹ کے اختتام تک حل نہیں ہو سکیں، جن میں تقریباً 3 کروڑ 97 لاکھ روپے شامل تھے۔

بی آئی ایس پی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ غلط صنفی اور ازدواجی ریکارڈ ابتدائی سروے کے دوران بنا تھا جسے بعد میں درست کر دیا گیا، جبکہ بیشتر خردبرد کی شکایات موقع پر ہی حل کر دی گئیں اور وصولیوں کے تازہ ریکارڈ کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی نے بے ضابطگیوں کی تصدیق، تحقیقات اور نااہل افراد سے رقم کی وصولی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں