کراچی میں اندھی گولیاں: اکتوبر میں 43 شہری زخمی، دو ماہ میں مجموعی تعداد 67 تک پہنچ گئی
چھیپا فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ستمبر اور اکتوبر کے دوران نامعلوم سمت سے چلنے والی گولیوں سے 67 افراد زخمی ہوئے، جن میں شیر خوار بچے، خواتین اور نوجوان بھی شامل ہیں۔

کراچی میں نامعلوم سمت سے چلنے والی گولیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور شہری مسلسل انجانے خوف کا شکار ہیں۔ ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صرف اکتوبر کے مہینے میں 43 افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بنے، جن میں شیر خوار بچے، کم سن، نوعمر لڑکے اور لڑکیاں، خواتین اور بزرگ شہری شامل ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر کے دو ماہ کے دوران مجموعی طور پر 67 افراد اس قسم کے واقعات میں زخمی ہوئے، جس سے شہر میں اسلحے کے غیر قانونی اور بے دریغ استعمال کا مسئلہ واضح ہوتا ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق یکم اکتوبر کو بلدیہ سیکٹر فور سی میں گھر کے اندر نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے 6 ماہ کی بشریٰ زخمی ہوگئیں۔ اسی طرح 3 اکتوبر کو فرنٹیئر کالونی کے علاقے غوثیہ محلہ میں ایک ڈیڑھ سالہ بچہ ابوبکر گولی لگنے سے زخمی ہوا، جبکہ 4 اکتوبر کو منگھوپیر اور بلدیہ کے علاقوں میں دو افراد زخمی ہوئے۔ 5 اکتوبر کو کورنگی انڈس اسپتال کے قریب 24 سالہ ثریا بی بی گولی کا نشانہ بنیں۔
رپورٹ کے مطابق 6 اور 7 اکتوبر کو سائٹ ایریا، کیماڑی اور لیاقت آباد میں تین افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک 15 سالہ نوجوان حسیب بھی شامل ہے۔ 11 اکتوبر کو ایک ہی دن میں چار افراد زخمی ہوئے، جن میں لیاری میں گھر کے اندر 27 سالہ سبطین، کورنگی کے علاقے میں 24 سالہ زبیر، اورنگی میں 32 سالہ وسیم اور منگھوپیر میں ایک 4 سالہ بچی صبیحہ شامل ہیں۔ 14 اور 16 اکتوبر کو شاہ فیصل کالونی، نارتھ ناظم آباد اور اختر کالونی میں تین افراد زخمی ہوئے۔
17 اکتوبر کو کم سن بچی اور نوجوان لڑکی سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔ کورنگی میں 18 سالہ کنزا، نارتھ کراچی میں 45 سالہ منیر احمد، محمود آباد میں 5 سالہ دعا زہرہ اور نارتھ ناظم آباد میں 42 سالہ پرویز گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ 18 اکتوبر کو پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں ملیر، لیاری، بنارس اور سائٹ ایریا کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہری شامل ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ نہ گھروں میں محفوظ ہیں اور نہ سڑک پر، کیونکہ گولی کب اور کہاں سے آئے گی، اس کا کوئی اندازہ نہیں۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر میں اسلحے کے بے دریغ استعمال کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اندھی گولیوں کے واقعات میں اضافہ شہریوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین چیلنج ہے، جس پر فوری توجہ اور مؤثر پولیسنگ کی ضرورت ہے۔
چھیپا فاؤنڈیشن شہریوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے لیے اعداد و شمار جاری کرتی رہتی ہے تاکہ متعلقہ ادارے توجہ دیں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
شہر قائد کے رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ غیر قانونی اسلحے کی روک تھام، اندھی گولیوں کے واقعات کی مؤثر تحقیقات اور مجرموں کی نشاندہی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے۔







