around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

سندھ ہائیکورٹ: نواز شریف کی گھر اسکیم کی زمین پر تنازع، سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن طلب

سندھ ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گھر اسکیم کی 12 ایکڑ زمین کی ملکیت کے تنازع پر سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا، پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نے زمین کو وفاقی ملکیت قرار دیا۔

around.pk·53m ago

سندھ ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گھر اسکیم کے تحت مختص کی گئی 12 ایکڑ زمین کی ملکیت سے متعلق تنازع پر دائر درخواست کی سماعت کے دوران سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔ یہ زمین کراچی میں واقع ہے اور اس پر ایک طویل عرصے سے ملکیت کا تنازع جاری ہے، جسے عدالت نے اہمیت اختیار کرتے ہوئے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید کارروائی کے لیے مقرر کیا ہے۔

سماعت کے دوران پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے 1962 میں حکومت سندھ سے 80 ایکڑ زمین خریدی تھی، جسے بعد ازاں پی آئی اے اور ایک کینیڈین کمپنی کو پولٹری پراجیکٹ کے لیے حوالہ کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد ملک میں گوشت کی پیداوار کی کمی کو پورا کرنا تھا۔ وکیل کے مطابق جب یہ پولٹری منصوبہ ختم ہوا تو 1999 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اس زمین کو عوام کے لیے گھر اسکیم کے تحت مختص کردیا۔

وکیل کا مؤقف تھا کہ یہ زمین وفاقی حکومت نے سندھ سے خریدی تھی اور اسی کی ملکیت رہی، اس لیے وزیراعظم کی اسکیم کے تحت اس کا استعمال قانونی طور پر درست تھا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ درخواست گزار محمد اقبال نے 10 جنوری 1996 کو حکومت سندھ کو 12 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کے لیے درخواست دی، جس پر 14 جنوری کو یہ زمین اسے الاٹ کردی گئی۔

مزید بتایا گیا کہ الاٹمنٹ کے بعد درخواست گزار نے اسی زمین کو 15 کروڑ روپے کے قرض کے عوض بینک میں گروی رکھوا دیا، جبکہ وہ 1996 سے 2024 تک طویل عرصے تک غیر حاضر رہا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ زمین وفاق کی ملکیت ہے، اس لیے یہ درخواست سماعت کے قابل نہیں۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد آئندہ سماعت پر سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن کو طلب کرلیا تاکہ زمین کی ملکیت سے متعلق سرکاری ریکارڈ کی تصدیق ہوسکے۔

واضح رہے کہ مذکورہ زمین کے دعویدار محمد اقبال نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے، جس پر عدالت مرحلہ وار سماعت کر رہی ہے۔ اس کیس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ سابق وزیراعظم کی جانب سے شروع کی گئی ہاؤسنگ اسکیم سے منسلک ہے، اور اس کا فیصلہ مستقبل میں اسکیم کے تحت مختص زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے قانونی نظیر بن سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں