سندھ میں اسلحے کی نمائش پر پابندی ایک ماہ مزید بڑھا دی گئی
محکمہ داخلہ سندھ نے صوبے بھر میں اسلحے کی کھلی نمائش پر عائد پابندی میں ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت خلاف ورزی پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او دفعہ 144 کے تحت کارروائی کر سکیں گے۔

سندھ حکومت نے صوبے بھر میں اسلحے کی کھلی نمائش پر عائد پابندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم نومبر 2026 سے ہوگا۔ یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوامی مقامات پر اسلحے کے مظاہرے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق رجسٹرڈ پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کے گارڈز کو ڈیوٹی کے دوران اسلحہ ساتھ رکھنے کی اجازت ہوگی، تاہم گاڑیوں میں نقل و حرکت اور کھلے مقامات پر گشت کے دوران اسلحہ لہرانے یا اس کی نمائش کرنے پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ حکام کے مطابق یہ استثنا صرف ڈیوٹی کی ضروریات تک محدود ہے اور اسے کسی بھی صورت میں عوامی سطح پر اسلحے کی نمائش کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو دفعہ 144 کے تحت قانونی کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی پر براہ راست مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے اور خاطیوں کے خلاف بغیر کسی تاخیر کے قانونی اقدام کیا جائے گا۔
یہ پابندی دراصل صوبائی حکومت کی جانب سے شہریوں کی سلامتی اور عوامی مقامات پر خوف و ہراس کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق کھلے عام اسلحہ لہرانے سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس طرح کی پابندیاں سماجی تحفظ کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت وقتاً فوقتاً اسلحے کی نمائش پر پابندی میں توسیع کرتی رہی ہے، اور یہ تازہ نوٹیفکیشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ شہریوں اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جاری احکامات پر عمل پیرا رہیں تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔










