around.pk
Thursday, 5 November 2026
⛅ کراچی 28°☀ لاہور 23°☀ اسلام آباد 18°
دنیا

ایران کے اسپیکر کا امریکا پر طنز، ڈونلڈ ٹرمپ کو 'ہارنے والا جواری' قرار دے دیا

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شکست خوردہ جواری کی طرح جنگ کا میدان چھوڑنے کو تیار نہیں، جبکہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے مفادات کے لیے جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔

around.pk·1h ago

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن شکست خوردہ جواری کی طرح جنگ کا میدان چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انھوں نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایک پوسٹ کے جواب میں کہی۔

قالیباف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ہارنے والے جواری جیسی ذہنیت پائی جاتی ہے جو میز چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں ہوتی، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے مفادات کے لیے جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکا اس وقت بھی اسرائیل کو اولین ترجیح دینے کی پالیسی کی کھائی کے کنارے کھڑا ہے اور طویل تقریر کے بجائے یہ بات خود اپنے باس سے کیوں نہیں کہی جاتی۔

یہ طنز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی ایک بڑی وجہ بنی۔ وینس کے بقول جنگ کے خاتمے، مہنگائی میں کمی، امریکی مفادات کو ترجیح دینے اور اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی جیسے معاملات نے صدر ٹرمپ کے سابق حامیوں کو ڈیموکریٹ امیدواروں کی طرف مائل کیا۔

رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ بھی یہی فیصلہ کریں گے، جبکہ ان کے نائب نے جنگ ختم کرنے کے اپنے سابقہ مشورے کو درست قرار دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی فروری دو ہزار چھبیس میں مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، اور اپریل میں عارضی جنگ بندی کے باوجود مستقل امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

امریکی فوجی حکام نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کے ممکنہ منصوبوں پر بریفنگ دی ہے، تاہم امریکی انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ نئے حملے بھی ایران کے مذاکراتی مؤقف یا اس کے نظام حکومت کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ دوسری جانب ایران نے قطر سمیت ثالثوں کے ذریعے امریکا سے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق کی ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کی مجوزہ سات نکاتی سفارتی تجویز پر عمل درآمد ممکن ہے، تاہم اس کے لیے امریکا کو بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقوں کے سخت بیانات کے باوجود سفارتی رابطے جاری ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید باقی ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے، اور حالیہ بیان بازی نے عالمی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر اثرات کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں