یورپ میں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں، کئی پروازیں متبادل ہوائی اڈوں پر اتاری گئیں
آئرلینڈ، اٹلی، فرانس، بلغاریہ، بیلجیئم اور فن لینڈ سمیت متعدد یورپی ممالک سے منسلک پروازوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد کئی پروازوں کا رخ موڑ کر انہیں متبادل ہوائی اڈوں پر اتارا گیا اور ہوائی اڈوں پر ہنگامی سکیورٹی اقدامات نافذ کر دیے گئے۔

یورپ کے مختلف ممالک میں تجارتی مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملنے کے بعد فضائی سفر میں نمایاں خلل پیدا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد پروازوں کا رخ تبدیل کر کے انہیں متبادل ہوائی اڈوں پر اتارا گیا، جبکہ کئی ہوائی اڈوں پر ہنگامی حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق آئرلینڈ، اٹلی، فرانس، بلغاریہ، بیلجیئم اور فن لینڈ سمیت دیگر یورپی ممالک سے منسلک پروازیں ان دھمکیوں سے متاثر ہوئیں۔ آئرلینڈ کی ایئرلنگس کی ڈبلن سے روم جانے والی پرواز کو بم کی دھمکی موصول ہونے پر اسے فرانس میں پیرس کے مغرب میں واقع ایورے کے فوجی ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا۔
اس طیارے میں 151 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے، جنہیں حفاظتی اقدامات کے تحت جہاز سے اتارا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل ماہرین نے طیارے کی تلاشی لی۔ اسی طرح بلغاریہ میں کوپن ہیگن اور میڈرڈ سے آنے والی پروازوں کو صوفیہ اور لندن سے آنے والی پرواز کو پلوودیو ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔
پولینڈ کی فضائی کمپنی ایل او ٹی کی ایک پرواز، میلان سے وارسا جانے والی وِز ایئر کی پرواز اور فن لینڈ کی فِن ایئر کی پروازیں بھی سکیورٹی الرٹس اور حفاظتی جانچ کے باعث متاثر ہوئیں۔ بعض پروازوں کو حفاظتی نگرانی میں منزل تک پہنچانے کے لیے لڑاکا طیاروں کی مدد بھی حاصل کی گئی۔
اٹلی کی فضائیہ نے ہیلسنکی سے روم آنے والی فن ایئر کی پرواز کی نگرانی کی، جبکہ متاثرہ پروازوں کی آمد پر متعلقہ ہوائی اڈوں پر سکیورٹی اہلکاروں اور بم ڈسپوزل ٹیموں نے تلاشی کا عمل مکمل کیا۔ واقعے کے بعد یورپی ہوائی اڈوں پر سخت حفاظتی اقدامات جاری ہیں اور متعلقہ حکام صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس طرح کی دھمکیاں فضائی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کے عملے کے لیے بڑے حفاظتی چیلنج کی صورت میں سامنے آتی ہیں، کیونکہ ہر دھمکی کے بعد مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل جانچ اور حفاظتی کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔ یورپی حکام نے مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں پر اضافی حفاظتی جانچ اور ممکنہ تاخیر کے لیے تیار رہیں۔











