around.pk
Thursday, 5 November 2026
⛅ کراچی 34°☀ لاہور 29°⛅ اسلام آباد 25°
دنیا

حوثیوں کا سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے 51 ارب ڈالر اور بطور حکمران تسلیم کیے جانے کا مطالبہ

یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کو پیشکش کی ہے کہ حملے روکنے کے لیے ریاض کو 51 ارب ڈالر ادا کرنا اور حوثیوں کو یمن کی حکمران قوت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا، وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق۔

around.pk·49m ago

یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کے سامنے یہ شرط رکھی ہے کہ اگر ریاض فضائی حملے روکنے کا معاہدہ چاہتا ہے تو اسے 51 ارب ڈالر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ حوثیوں کو یمن کی حکمران قوت کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے مذاکرات سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ حملے روکنے کے لیے کس نوعیت کا معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں کیا گیا جب حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا اور باب المندب آبنائے کے قریب اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق حوثیوں نے واضح کیا کہ 51 ارب ڈالر کا مطالبہ سعودی فضائی حملوں اور طویل ناکہ بندی سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے ہے۔ بعد میں مالی مطالبات کی مختلف شکلیں بھی سامنے آئیں، تاہم حوثیوں کا بنیادی پیغام یہی رہا کہ تنازع سے نکلنے کے لیے سعودی عرب کو دسیوں ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق رواں موسم گرما میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی، جس کے دوران حوثیوں نے سعودی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا اور یمن میں مزید اہم علاقوں پر قبضہ کیا۔ حوثی اب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مرکز عدن سے تقریباً 50 میل کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں، جو 2015 کے بعد ان کی عدن کے قریب ترین پیش قدمی بتائی جاتی ہے۔

تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے اے سی ایل ای ڈی کی ایک سینئر تجزیہ کار کے مطابق اکتوبر میں حوثیوں نے تقریباً روزانہ سعودی عرب پر حملے کیے، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ادارے کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے اندر حملوں کے 26 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

دریں اثنا یمن کے صوبے شبوا میں حوثیوں کے ایک حملے میں کم از کم 75 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد یہ سب سے زیادہ ہلاکتوں والا واقعہ ہے۔ ماہرین نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا کہ حوثیوں کے خلاف مزید زمینی فوج بھیجنا سعودی عرب کے لیے مشکل فیصلہ ہے، جبکہ حوثیوں کی مضبوط زمینی پوزیشن اور سعودی شہری و توانائی کی تنصیبات پر حملے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ایک امریکی فوجی ماہر نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب کو ایران، عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور حوثیوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے اپنے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام سمیت دیگر فضائی دفاعی وسائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اور سلامتی کے چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں