around.pk
Thursday, 5 November 2026
⛅ کراچی 32°☀ لاہور 26°☀ اسلام آباد 21°
کاروبار

کراچی میں پاکستان کا پہلا ماربل سٹی: ڈھائی کروڑ فی ایکڑ، قسطوں میں ادائیگی کی سہولت

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں ملک کا پہلا ماربل سٹی قائم کیا جا رہا ہے، جہاں سرمایہ کاروں کو جدید صنعتی سہولیات کے ساتھ قسطوں میں زمین خریدنے کی سہولت بھی دی جائے گی۔

around.pk·45m ago

کراچی میں پاکستان کے پہلے ماربل سٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد سنگِ مرمر اور گرینائٹ کے قدرتی ذخائر کو مقامی سطح پر پراسیس کر کے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کرنا اور انہیں عالمی منڈیوں میں برآمد کرنا ہے۔ اس حوالے سے کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں کراچی ماربل سٹی انڈسٹریل پارک کی پری لانچ تقریب منعقد ہوئی، جس سے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے خطاب کیا۔

سینئر وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا، صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرے گا۔ ان کے مطابق پاکستان میں سنگِ مرمر اور گرینائٹ کے وسیع ذخائر موجود ہیں، لیکن اب تک ان وسائل سے مکمل فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا؛ ماربل سٹی کے ذریعے خام مال کی برآمد کے بجائے مقامی پراسیسنگ کو فروغ دیا جائے گا، جس سے ملک کو معاشی فائدہ ہوگا۔

تقریب میں خصوصی معاون برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ قاسم نوید قمر، معروف صنعت کار عارف حبیب، سرکاری حکام، صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اس منصوبے کی قیادت قاسم نوید قمر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر کر رہے ہیں، جبکہ اس کے پیچھے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترقی پسند وژن کارفرما ہے۔ منصوبے کا باقاعدہ افتتاح بھی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ کریں گے۔

ماربل سٹی میں فی ایکڑ زمین کی اوسط قیمت تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مقرر کی جا رہی ہے۔ سینئر وزیر کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیے زمین کی مکمل قیمت یکمشت ادا کرنا لازمی نہیں ہوگا، بلکہ جو افراد یکمشت ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں اقساط میں ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ پری لانچنگ کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں کو منصوبے کی تفصیلات اور دستیاب مواقع سے آگاہ کرنا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کو آبادی میں اضافے، بے روزگاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے مسائل کا سامنا ہے اور اس کا مؤثر ذریعہ صنعتی ترقی اور نئی صنعتوں کا قیام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کاروباری برادری کو سہولیات و مراعات فراہم کرے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنائے اور صنعتوں کے قیام میں حائل رکاوٹیں دور کرے۔

انہوں نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑی آبادی کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ زرعی برآمدات بڑھائی جائیں اور پیداوار کو جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں