around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بھاری کامیابی، ٹرمپ اور ری پبلکنز کو عبرتناک شکست

امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں واضح اکثریت حاصل کر لی، جبکہ صدر ٹرمپ اور ری پبلکنز کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مہنگائی، مسلم مخالف بیان بازی اور ایران پالیسی نے ٹرمپ کی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔

around.pk·1h ago

امریکہ میں منعقدہ مڈٹرم انتخابات کے نتائج مکمل طور پر واضح ہو چکے ہیں، جن کے مطابق حکمران ری پبلکن پارٹی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ حریف ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں نمایاں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ امریکی سیاسی روایت میں ڈیموکریٹس کا انتخابی نشان گدھا اور ری پبلکنز کا ہاتھی ہے، اسی لیے مبصرین نے نتائج کا خلاصہ یہ کہا کہ گدھوں نے ہاتھیوں کو روند ڈالا۔

انتخابی مہم کے دوران ہی یہ اندازے لگائے جا رہے تھے کہ ٹرمپ کے لیے کامیابی کے امکانات کم ہیں، اور حتمی نتائج نے ان پیش گوئیوں کو درست ثابت کر دیا۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی شکست میں کئی عوامل نے مرکزی کردار ادا کیا، جن میں عام شہریوں پر مہنگائی کا بوجھ، مسلمانوں اور عالم اسلام کے خلاف سخت بیان بازی، میڈیا کی مسلسل توہین، ووٹروں سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی اور ایران کے معاملے پر امریکی پالیسی کی ناکامی شامل ہیں۔ خود ٹرمپ نے بھی شکست کے بعد تسلیم کیا کہ ایران سے متعلق معاملات اور مہنگائی نے ری پبلکنز کو نقصان پہنچایا۔

رپورٹس کے مطابق اس انتخاب میں کم از کم گیارہ امریکی مسلمان امیدواروں نے مختلف نشستوں پر حصہ لیا، جن میں سے نصف سے زائد کامیاب ہوئے۔ ریاست مینی سوٹا سے الہان عمر، مشی گن سے رشیدہ طلیب، انڈیانا سے آندرے کارسن اور سینیٹ میں پہلی بار مصری نژاد ڈاکٹر عبدالرحمن السید نے کامیابی حاصل کی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے مسلم کمیونٹی کے خلاف کی گئی مہم کے برعکس امریکی ووٹروں نے رواداری اور اعتدال کا مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب ایران کی قیادت نے ٹرمپ کی شکست پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اس موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی شکست خطے میں مزاحمت اور استقامت کی کامیابی ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسیاں اور غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کی کھلی حمایت بھی ان کی سیاسی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔

شکست کے بعد امریکی سیاست میں کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن میں ٹرمپ کے مستقبل، ممکنہ پارلیمانی احتساب اور ان کی خارجہ پالیسی کے اثرات شامل ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ واشنگٹن کی سیاسی تبدیلی کے بعد دو طرفہ تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابی نتائج کا اثر عالمی سیاست اور علاقائی معاملات پر بھی پڑے گا، جس کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں