بجلی کے بلوں میں مزید اضافے کا امکان، تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا سے 23 ارب روپے وصولی کی درخواست جمع کرادی
تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین سے 23 ارب 33 کروڑ روپے اضافی وصول کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی ہے، جس پر 17 نومبر کو سماعت ہوگی۔

ملک بھر کے بجلی صارفین کو آئندہ ماہ کے دوران مزید بھاری بلوں کا سامنا ہوسکتا ہے، کیونکہ تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین سے 23 ارب 33 کروڑ روپے سے زائد اضافی وصولی کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرادی ہے۔
درخواست کے مطابق یہ ایڈجسٹمنٹ جولائی سے ستمبر تک کی تیسری سہ ماہی کے اخراجات کی مد میں مانگی گئی ہے، تاہم فی یونٹ نرخوں میں کتنا اضافہ ہوگا، اس کا حتمی فیصلہ نیپرا کی جانب سے سماعت کے بعد کیا جائے گا۔
تقسیم کار کمپنیوں نے کیپیسٹی چارجز کے عنوان سے 38 ارب 92 کروڑ روپے جبکہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس اخراجات کی مد میں 5 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ روپے صارفین سے وصول کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ دوسری جانب درخواست میں انکریمنٹل پیکیج کے اثرات کے تحت 29 ارب 25 کروڑ روپے کی کمی بھی شامل کی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی اضافی وصولی 23 ارب 33 کروڑ روپے بنتی ہے۔
واضح رہے کہ اس مجوزہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین پر ہوگا اور کے الیکٹرک کے صارفین بھی اس اضافے سے متاثر ہوں گے۔ نیپرا اس درخواست پر 17 نومبر کو سماعت کرے گا، جس کے بعد اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ صارفین کے لیے پہلے ہی بوجھ بنے ہوئے ہیں، اور اس نئی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری کی صورت میں افراط زر پر مزید دباؤ پڑنے اور عام گھرانوں کے ماہانہ بجٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق بجلی کی قیمت میں ہر اضافہ صنعتی پیداواری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔










