around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 35°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 25°
کاروبار

پاکستان ترکیہ کی تکنیکی معاونت سے منہ کھر ویکسین مقامی طور پر تیار کرے گا

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور ترکیہ کے سفیر کے درمیان ملاقات میں لائیو اسٹاک شعبے کی ترقی، مقامی ویکسین کی تیاری اور تکنیکی تربیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

around.pk·1h ago

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لائیو اسٹاک کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ترکیہ کی تکنیکی معاونت سے پاکستان میں منہ کھر بیماری سے بچاؤ کی ویکسین مقامی سطح پر تیار کی جائے گی۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں شعبے کی ترقی کے امور زیر غور آئے۔

ملاقات کے دوران لائیو اسٹاک شعبے کی ترقی، ویکسین کی مقامی تیاری اور تکنیکی تربیت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مجوزہ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر ایک سو پاکستانی افراد کو تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے پہلے مرحلے میں تیس افراد کو تربیت کے لیے ترکیہ بھیجا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری اور جانوروں کی بہتر صحت کے لیے اقدامات سے بیماری سے پاک زونز کے قیام میں مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں مویشیوں کی پیداواری صلاحیت بہتر ہوگی اور گوشت کی برآمدات میں اضافے کا امکان ہے، جو ملکی معیشت اور برآمدی شعبے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔

یاد رہے کہ منہ کھر بیماری مویشیوں میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے، جس کے باعث جانوروں کی صحت اور پیداوار متاثر ہوتی ہے اور برآمدات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے مقامی ویکسین کی دستیابی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے درآمدی ویکسین پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان زراعت، لائیو اسٹاک اور تکنیکی تعاون کے شعبے میں یہ پیش رفت دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ کے مطابق اس تعاون کا مقصد ملکی سطح پر خود انحصاری بڑھانا اور مویشیوں کی صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

واضح رہے کہ اس قسم کے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار عمل درآمد کی رفتار، تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی اور مقامی سطح پر ویکسین کی پیداوار کے معیار پر ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ اقدام بروقت اور مؤثر طریقے سے مکمل ہو جائے تو اس سے نہ صرف مویشیوں کی صحت بلکہ دیہی معیشت اور برآمدی آمدنی میں بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں