around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 35°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 25°
پاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ایم ڈی سی حکام کو توہین عدالت میں شوکاز نوٹس، 25 نومبر تک جواب طلب

ملازمین کی بحالی کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے حکام کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 نومبر تک جواب دینے کی ہدایت کی ہے۔

around.pk·49m ago

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے حکام کو توہین عدالت کی کارروائی کے تحت شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹس ملازمین کی بحالی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کے معاملے میں جاری کیا گیا، اور عدالت نے حکام سے 25 نومبر تک تحریری جواب طلب کیا ہے۔

جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی حکام سے واضح طور پر استفسار کیا کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں شروع نہ کی جائے، جبکہ عدالت کے سامنے یہ بات سامنے آئی کہ مارچ 2026 میں عدالت نے پی ایم ڈی سی ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس فیصلے کے باوجود متعلقہ ملازمین کو ان کے عہدوں پر بحال نہیں کیا گیا، جس پر متاثرہ ملازمین نے پی ایم ڈی سی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے اس درخواست کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کونسل کے حکام کو ذاتی حیثیت میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کرنا عدلیہ کے وقار کو متاثر کرتا ہے، اور ایسی صورت میں عدالت توہین عدالت کے تحت کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔ اس کیس کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا پی ایم ڈی سی حکام نے عدالتی حکم کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا یا اس پر عمل درآمد میں کوئی انتظامی رکاوٹ پیش آئی۔

واضح رہے کہ پی ایم ڈی سی ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے معیار کی نگرانی کرنے والا اہم سرکاری ادارہ ہے، اور اس کے فیصلوں کا تعلق طبی تعلیم سے وابستہ اداروں اور پیشہ ور افراد سے ہے۔ اس لیے عدالت کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کو ادارتی نظم و ضبط اور قانونی عمل کی پاسداری کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اب عدالت نے پی ایم ڈی سی حکام کو 25 نومبر تک جواب جمع کرانے کی مہلت دی ہے، جس کے بعد کیس میں مزید قانونی کارروائی کا امکان ہے۔ ملازمین کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوری بحال کرنے کا حکم دے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں