لاہور ہائیکورٹ کا ازدواجی زندگی میں تشدد سے متعلق اہم فیصلہ، قانون سازی کی درخواست مسترد
لاہور ہائیکورٹ نے شادی کے دوران جنسی تشدد سے متعلق علیحدہ قانون سازی کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کسی کو دوسرے پر تشدد کا حق نہیں دیتی اور قانون سازی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا آئینی اختیار ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ازدواجی زندگی میں تشدد اور جنسی زیادتی سے متعلق قانون سازی کی استدعا پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ شادی کی وجہ سے کسی خاتون کے آئینی حقوق یا انسانی وقار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہ فیصلہ جسٹس عبہر گل خان نے درخواست گزار وکیل اریج سہیل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست خارج کرتے ہوئے دیا۔
فیصلے کے مطابق شادی کا رشتہ کسی شریک حیات کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ دوسرے پر تشدد کرے، اور ازدواجی بندھن کسی فرد کے بنیادی حقوق کو محدود نہیں کر سکتا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا آئینی اختیار ہے، اور عدالتیں پارلیمنٹ کی جگہ لے کر خود قانون سازی نہیں کر سکتیں۔
تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے قانونی نظام صرف پاکستان پینل کوڈ تک محدود نہیں، بلکہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں گھریلو تشدد کے خلاف الگ قوانین موجود ہیں جو خواتین کو مختلف قسم کے تشدد سے بچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر اسمبلیاں اس معاملے پر مزید قانون سازی کرنا چاہیں تو وہ آئین کے تحت ایسا کر سکتی ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ شادی کے دوران جنسی تشدد سے متعلق علیحدہ قوانین بنائے جائیں، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے معاملے کو قانون ساز اداروں کے دائرہ اختیار میں قرار دیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں خواتین کے تحفظ اور گھریلو تشدد سے متعلق قوانین پر بحث جاری ہے اور مختلف صوبائی اسمبلیاں متعلقہ قانون سازی پر غور کر رہی ہیں۔
عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ریاستی اداروں کے دائرہ کار کا تعین آئین کے تحت ہوتا ہے اور عدلیہ کا کردار قانون کی تشریح اور نفاذ تک محدود ہے۔








