ایران کی دھمکی: دوبارہ حملے کی صورت میں دنیا بھر میں امریکی اثاثے نشانے پر ہوں گے
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود امریکی اثاثوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، کارروائی کے لیے کوئی جغرافیائی حد مقرر نہیں ہوگی۔

تہران نے امریکا کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ایرانی فوج دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود امریکی اثاثوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے واضح کیا کہ اس ممکنہ کارروائی کے لیے کوئی جغرافیائی حد یا پابندی نہیں ہوگی۔
خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ حملے کی صورت میں ایران نام نہاد ’امریکی دشمن‘ کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنائے گا، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود ہوں۔
ایران کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی نئے حملے کی صورت میں اپنے ردعمل کو صرف خطے تک محدود رکھنے کا عندیہ نہیں دے رہا۔ تاہم ترجمان نے اپنے بیان میں کسی مخصوص امریکی ہدف یا ممکنہ کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، جس سے صورت حال کی گمبھیرتا کے باوجود ایرانی حکمت عملی کے بارے میں واضح تصویر نہیں بنتی۔
یہ بیان خطے میں جاری کئی دیگر پیش رفتوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں حوثیوں کی جانب سے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش اور ایران کا قشم جزیرے کے قریب دو مزید امریکی ڈرونز پکڑنے کا دعویٰ شامل ہے۔ ان واقعات نے خلیجی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مؤقف اس کی جانب سے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ممکنہ فوجی دباؤ کے خلاف اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔ تاہم اس طرح کے بیانات سے خطے میں امن و استحکام کے امکانات پر سوالیہ نشان لگتا ہے اور بین الاقوامی برادری کے لیے حالات کو قابو میں رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان تنازعے کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سفارتی ذرائع سے تنازعے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔










