سندھ پولیس نے پولیو ورکر کو سانپ پھینک کر ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ملزم نے ڈیوٹی کے دوران خاتون پولیو ورکر پر کالا سانپ پھینکا اور دھمکیاں دیں؛ پولیو ٹیموں کو رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان۔

سندھ کے علاقے سندر میں پولیس نے ایک پیشہ ور مداری کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے ڈیوٹی کے دوران ایک خاتون پولیو ورکر پر کالا سانپ پھینک کر انہیں ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں۔ یہ واقعہ ملک میں جاری قومی پولیو مہم کے دوران پیش آیا، جس نے محکمہ صحت کے عملے کے تحفظ سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ملزم مشتاق نے سرکاری ڈیوٹی پر مامور خاتون ورکر کو نشانہ بنایا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔ ملزم کے خلاف پولیو ورکر سے بدسلوکی اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پولیو مہم میں مصروف عملے کی حفاظت محکمہ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور پولیو ٹیموں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے یا انہیں خوفزدہ کرنے کی کوششوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ مہم کے دوران فرائض انجام دینے والے کارکنان کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، اور ملک بھر میں وقتاً فوقتاً پولیو کے قطرے پلانے کی مہمیں چلائی جاتی ہیں۔ محکمہ صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان مہمات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ فرنٹ لائن پر کام کرنے والے کارکنان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے خلاف کسی قسم کی رکاوٹ یا ہراسانی کو روکا جائے۔
پولیو ورکرز پر حملے اور ہراسانی کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن کی وجہ سے بعض علاقوں میں مہمات کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا اور عوامی سطح پر اعتماد بحال کرنا پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ناگزیر ہے۔
سندر پولیس کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کو اس تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس سے مہم کے دوران فرائض انجام دینے والے کارکنان کو یہ پیغام جاتا ہے کہ ریاست ان کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ محکمہ صحت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ملک کو اس وائرس سے پاک کیا جا سکے۔








