around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 24°
پاکستان

لاہور ہائیکورٹ کا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 پر اہم فیصلہ: ماضی پر قانون کے اطلاق کو مسترد کر دیا

لاہور ہائیکورٹ نے خوشاب کی سیشن عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کا اطلاق قانون کے نفاذ سے قبل ہونے والی شادی پر نہیں کیا جا سکتا، اور لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف دارالامان بھیجنا قانونی تقاضوں کے خلاف تھا۔

around.pk·1h ago

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد ابن عزیز نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے خوشاب کی سیشن عدالت کا 20 مئی 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ نئے قانون کو ماضی پر لاگو کرکے کسی فرد کے خلاف کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، اور زیر بحث نکاح 18 اپریل 2026 کو ہوا تھا جبکہ متعلقہ قانون 11 مئی 2026 کو نافذ ہوا تھا۔

فیصلے کے مطابق قانون کے نفاذ سے قبل ہونے والی کم عمری کی شادی پر نئے قانون کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ لڑکی کو ماضی سے اطلاق شدہ قانون کی بنیاد پر کم عمر قرار دے کر دارالامان بھیجنا درست نہیں تھا، کیونکہ کسی بھی نافذ شدہ قانون کو سابقہ تاریخ سے لاگو کرکے کسی کے خلاف کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

یاد رہے کہ سیشن کورٹ خوشاب نے کرن شاہین کو سولہ سال سے کم عمر قرار دے کر دارالامان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے شیر باز اور صفینہ خاتون کی فوجداری نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے یہ حکم کالعدم قرار دیا، جبکہ کرن شاہین کے والد احمد شیر کی آئینی درخواست مسترد کر دی گئی۔

فیصلے میں عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرن شاہین نے مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیا تھا کہ اس نے اپنی آزاد مرضی سے شادی کی اور اسے کسی نے اغوا نہیں کیا۔ لڑکی نے والد کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے عدالت نے اہم قانونی نکتہ قرار دیا۔

عدالت نے دفعہ 552 ضابطہ فوجداری کے حوالے سے کہا کہ کارروائی کے لیے اغوا اور سولہ سال سے کم عمر ہونے کے قانونی تقاضوں کا جائزہ لازمی ہے۔ اگر مبینہ مغویہ عدالت میں اپنی کم عمری کے الزام کی تردید کر دے تو دفعہ 552 کے تحت کارروائی جاری نہیں رکھی جا سکتی، اور یہ دفعیہ عدالت کو لڑکی کو غیر معینہ مدت تک دارالامان میں رکھنے کا اختیار بھی نہیں دیتا۔

جسٹس خالد ابن عزیز نے ریمارکس میں کہا کہ لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف دارالامان میں رکھنا قانونی تقاضوں کے منافی تھا۔ عدالت نے کرن شاہین کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہنے کی آزادی دے دی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدالتوں کو نئے قوانین کے نفاذ کی تاریخی حدود اور ذاتی آزادی کے قانونی تحفظات کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔

اسی فیصلے کے ساتھ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت نے جے یو آئی کے خلاف بھی حکم جاری کیا ہے۔ یہ پیش رفت صوبائی سطح پر انتخابی شیڈول اور قانونی ڈھانچے سے متعلق اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں