فرانس کے نیشنل بلڈ بینک پر سائبر حملہ، خون کی تمام مصنوعات محفوظ رہیں
فرانس کے قومی بلڈ بینک کے کولڈ اسٹوریج نظام کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم خودکار نگرانی کے نظام اور بروقت کارروائی کی بدولت خون اور پلازما کی کسی مصنوع کو نقصان نہیں پہنچا۔

فرانس میں قومی بلڈ بینک کے زیرِاستعمال کولڈ اسٹوریج سسٹمز کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے پلازما اور خون کی مصنوعات محفوظ رکھنے والے ریفریجریشن نظام کی ترتیبات میں تبدیلی کرکے درجہ حرارت کو غیر معمولی حد تک بڑھانے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی کے باعث کسی بھی قسم کی کوئی مصنوع یا نمونہ نقصان سے محفوظ رہا۔
فرانسیسی حکام کے مطابق یہ سائبر حملہ دو نومبر 2026ء کو ملک کے تین مختلف مقامات پر قائم پلازما ذخیرہ کرنے کی سہولتوں پر کیا گیا۔ حملہ آوروں نے درجہ حرارت اور برف پگھلانے سے متعلق ترتیبات تبدیل کرنے کی کوشش کی تاکہ اسٹوریج رومز کے اندر موجود درجہ حرارت خطرناک سطح تک پہنچ جائے۔
فرانس کے قومی ادارے برائے خون نے بتایا کہ اس حملے کے دوران ان کولڈ اسٹوریج رومز کے درجہ حرارت پر قابو رکھنے والے نظام متاثر ہوئے جن میں خون کی منتقلی اور ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا پلازما رکھا جاتا ہے۔ تاہم ادارے کے خودکار نگرانی اور الارم نظام نے غیر معمولی تبدیلیوں کی فوری نشاندہی کردی، جس کے بعد عملے نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے پلازما کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا۔
قومی بلڈ بینک نے تصدیق کی ہے کہ اس سائبر حملے کے نتیجے میں خون کی کسی مصنوع کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی مریض کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق ہوا۔ واقعے کے بعد متعلقہ سہولتوں میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
یہ واقعہ صحت کے شعبے سے منسلک اہم ڈیجیٹل نظاموں کی سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت پر قابو رکھنے والے نظاموں جیسے حساس آلات کو مضبوط سائبر تحفظ فراہم کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ ایسی سہولتوں میں کسی بھی قسم کی خلل زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
فرانسیسی ادارے نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ خون کی فراہمی کے نظام پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا اور تمام مصنوعات معمول کے مطابق محفوظ اور دستیاب ہیں۔
یہ واقعہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایک یاددہانی ہے کہ صحت کے بنیادی ڈھانچے سے جڑے ڈیجیٹل نظام سائبر حملوں کا آسان ہدف بن سکتے ہیں، اور ان کی حفاظت کے لیے خودکار نگرانی اور فوری ردِعمل کے نظام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔











