around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 23°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
ٹیکنالوجی

برطانوی محقق کا دعویٰ: دنیا میں سات نہیں بلکہ چھ براعظم ہیں

ڈربی یونیورسٹی کے ارضیات دان ڈاکٹر جارڈن فیتھیان کا کہنا ہے کہ شمالی امریکا اور یوریشیا کے درمیان سمندری فرش پر موجود پہاڑی سلسلہ اب بھی جڑا ہوا ہے، جس سے سات براعظموں کا روایتی نظریہ سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

around.pk·47m ago

ارضیاتی علوم میں ایک نئی تحقیق نے دنیا کے براعظموں کی روایتی گنتی کو چیلنج کر دیا ہے۔ برطانیہ کی ڈربی یونیورسٹی سے منسلک ارضیات دان ڈاکٹر جارڈن فیتھیان نے اپنی ٹیم کے ساتھ بحر اوقیانوس کے نیچے واقع دو ہزار کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلے کا معائنہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شمالی امریکا اور یوریشیا ارضیاتی لحاظ سے اب بھی ایک ہی براعظم شمار ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں سات نہیں بلکہ چھ براعظم ہیں۔

یہ پہاڑی سلسلہ بحر اوقیانوس کے فرش پر گرین لینڈ سے آئس لینڈ اور سکاٹ لینڈ تک پھیلا ہوا ہے اور بالکل شمالی امریکی اور یوریشیائی ارضی پلیٹوں کے درمیان واقع ہے۔ عام طور پر یہ نظریہ رائج ہے کہ یہ دونوں پلیٹیں تقریباً سوا پانچ کروڑ سال پہلے ایک دوسرے سے الگ ہو گئی تھیں، تاہم نئی تحقیق میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ زیرِ آب پہاڑی سلسلے کے کئی مقامات پر دونوں پلیٹیں آج بھی باہم جڑی ہوئی ہیں۔

محققین کے مطابق ارضیاتی پیمانے پر یہ بات اہم ہے کہ شمالی امریکا اور یورپ و روس کو علیحدہ براعظم ماننے کی بجائے ایک ہی اکائی کے طور پر دیکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خطے تقریباً بیس سے پچیس کروڑ سال قبل پانگیا نامی سپر براعظم کا حصہ تھے، اور زیرِ آب پہاڑی سلسلے کی ساخت بتاتی ہے کہ یہ تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

یہ دعویٰ روایتی جغرافیائی درجہ بندی سے ہٹ کر ہے، جس میں شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپ، ایشیا، افریقہ، آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا کو الگ الگ براعظم شمار کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کوئی حتمی یا عالمی طور پر تسلیم شدہ فیصلہ نہیں بلکہ ایک تحقیقی نتیجہ ہے، جس پر ارضیات کے ماہرین میں مزید بحث متوقع ہے۔ عام قارئین کے لیے اس کا عملی مطلب صرف یہ ہے کہ براعظموں کی تعریف اور گنتی وقت کے ساتھ سائنسی تحقیق کے تحت بدلتی رہتی ہے۔

یہ تحقیق ان سوالات کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ زمین کی سطح کی تشکیل کیسے ہوئی اور براعظموں کی موجودہ شکل کس طرح وجود میں آئی۔ ماہرین کے مطابق سمندری فرش پر کی گئی ایسی مطالعاتیں نہ صرف ماضی کی ارضیاتی تاریخ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ مستقبل میں پلیٹوں کی حرکت اور زلزلوں جیسے مظاہر کو بہتر طور پر سمجھنے کی بنیاد بھی فراہم کر سکتی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں