around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 23°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
پاکستان

سندھ میں نصف سے زائد آبادی غربت کا شکار، اسمبلی کے اخراجات پر 5 ارب روپے مختص

یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کی نصف سے زیادہ آبادی کثیرالجہتی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی، وزرا اور اراکین کے اخراجات کے لیے رواں مالی سال میں تقریباً 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

around.pk·52m ago

سندھ میں غربت کی صورتحال تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس کے مطابق صوبے کی نصف سے زیادہ آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے اور صحت، تعلیم، مناسب خوراک سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ حکومت سندھ کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق غربت سے متاثرہ 71 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔

معاشی دباؤ کے سبب صوبے میں انفرادی اور اجتماعی خودکشی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، تاہم حکومتی سطح پر اخراجات میں کمی کی کوئی واضح کوشش نظر نہیں آتی۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال میں سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ، منتخب اراکین، صوبائی وزرا اور معاونین خصوصی کے اخراجات کے لیے تقریباً 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت سندھ نے رواں مالی سال سندھ اسمبلی کے لیے 84.2 ارب روپے رکھے ہیں، جن میں 31.1 ارب روپے غیر تنخواہی بجٹ کے تحت مختص کیے گئے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے دوران اسمبلی کا کل بجٹ 815 ملین روپے تھا، مگر اخراجات 1251 ملین روپے تک پہنچ گئے، یعنی 431 ملین روپے زائد خرچ ہوئے۔

صوبائی وزرا اور معاونین خصوصی کے اخراجات اس رقم میں شامل نہیں ہیں۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے بجٹ میں ان کے لیے الگ سے 766 ملین روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ وزرا اور افسران کے پروٹوکول پر اضافی 231 ملین روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں سندھ اسمبلی نے صرف تفریحی اخراجات کے طور پر 128 ملین روپے خرچ کیے۔

ادھر سندھ اسمبلی ان چند بااثر سرکاری محکموں میں شامل ہے جن کے اکاؤنٹس کی باقاعدہ آڈٹ نہیں ہوتی یا پھر انھیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ اس حوالے سے سندھ اسمبلی کے سیکریٹری اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سیکریٹری سے رابطہ کیا گیا، تاہم دونوں نے کوئی جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صوبے کی بڑی آبادی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ ماہرین کے مطابق عوامی نمائندوں اور سرکاری اداروں کے اخراجات میں کمی اور شفافیت سے وسائل کو غربت کے خاتمے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں