around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 22°☀ لاہور 18°☀ اسلام آباد 17°
ٹیکنالوجی

وائجر 1 ایک نوری دن کے فاصلے کے تاریخی سنگِ میل کے قریب پہنچنے کو ہے

ناسا کا خلائی جہاز وائجر 1 نومبر 2026 میں زمین سے ایک نوری دن کے فاصلے پر پہنچ جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ اس سے رابطے میں 48 گھنٹے لگیں گے۔

around.pk·1h ago

ناسا کا خلائی جہاز وائجر 1، جو انسان کی جانب سے خلا میں بھیجی گئی سب سے دور دراز شے ہے، ایک نئی تاریخی کامیابی کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تقریباً نصف صدی قبل روانہ کیا جانے والا یہ جہاز مسلسل نئے ریکارڈ قائم کرتا رہا ہے اور اب زمین سے ایک نوری دن کے فاصلے تک پہنچنے والا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق 18 نومبر 2026 کو وائجر 1 زمین سے تقریباً 25 ارب 90 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔ یہ فاصلہ ایک نوری دن کے برابر ہو جائے گا، یعنی وہ مسافت جو روشنی 24 گھنٹوں میں طے کرتی ہے۔

اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ اس وقت زمین سے وائجر 1 کی جانب بھیجا گیا ریڈیو سگنل خلائی جہاز تک پہنچنے میں تقریباً 24 گھنٹے لے گا۔ اسی طرح وائجر 1 کی جانب سے بھیجا گیا جوابی سگنل واپس زمین تک پہنچنے میں مزید 24 گھنٹے کا وقت لے گا، یعنی ایک پیغام اور اس کے جواب میں مجموعی طور پر تقریباً 48 گھنٹے لگیں گے۔

یہ سنگِ میل خلائی تحقیق کی تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ اس سے قبل کسی بھی انسانی ساختہ جہاز نے زمین سے اتنی دوری حاصل نہیں کی۔ وائجر 1 کی جانب سے بھیجے جانے والے سگنلز کی شدت وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ناسا کے سائنس دانوں کو رابطے کے لیے بڑے اینٹینا استعمال کرنے پڑتے ہیں۔

واضح رہے کہ وائجر 1 کو 1977 میں نظامِ شمسی کے بیرونی سیاروں کا مطالعہ کرنے کے لیے روانہ کیا گیا تھا، لیکن اپنے مشن کی تکمیل کے بعد یہ جہاز اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج یہ ستاروں کے درمیانی خلائی ماحول میں موجود ہے اور زمین سے رابطے کے لیے اب بھی محدود مگر قابلِ قدر معلومات فراہم کر رہا ہے۔

یہ کامیابی نہ صرف خلائی ٹیکنالوجی کی مضبوطی بلکہ انسانی سائنسی تجسس اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا مظہر ہے۔ ماہرین کے مطابق وائجر 1 کا یہ سفر آنے والی نسلوں کے لیے خلا کی وسعتوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں