around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 22°☀ لاہور 18°☀ اسلام آباد 16°
کاروبار

کپاس کی پیداوار کا ہدف مسلسل دوسرے سال بھی پورا نہ ہو سکا، گنے کی کاشت اور گرمی نے نقصان پہنچایا

کاٹن جنرز فورم کے مطابق کاٹن زونز میں گنے کی غیر معمولی کاشت اور ریکارڈ درجہ حرارت کے باعث مسلسل دوسرے سال بھی ہر پندھرواڑے میں کپاس کی 10 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا، تاہم ڈیجیٹل انوائسنگ سے رواں سال مجموعی پیداوار بڑھنے کے امکانات ہیں۔

around.pk·1h ago

ملک کے کاٹن زونز میں گنے کی غیر معمولی کاشت کی وجہ سے مسلسل دوسرے سال بھی کپاس کی پیداوار کا قومی ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق 31 اکتوبر تک مقامی جننگ فیکٹریوں میں 47 لاکھ 43 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق اس عرصے میں پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 19 لاکھ 99 ہزار جبکہ سندھ کی فیکٹریوں میں 27 لاکھ 44 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی، جو گزشتہ سال کی نسبت بالترتیب 5 اور 9 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل ملز نے 39 لاکھ 97 ہزار اور برآمد کنندگان نے 98 ہزار گانٹھیں خریدیں، جبکہ جننگ فیکٹریوں میں 6 لاکھ 48 ہزار گانٹھوں کا ذخیرہ فروخت کے لیے موجود ہے۔

ملک بھر میں سب سے زیادہ کپاس سندھ کے ضلع سانگھڑ کی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی، جہاں 12 لاکھ 11 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی۔ اس کے علاوہ بہاولنگر میں 5 لاکھ 26 ہزار، بہاولپور میں 3 لاکھ 65 ہزار، ڈیرہ غازی خان میں 2 لاکھ 83 ہزار، رحیم یار خان میں 2 لاکھ 34 ہزار اور سکھر میں 3 لاکھ 19 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی جننگ فیکٹریوں تک پہنچی۔

احسان الحق نے بتایا کہ دو سال قبل تک ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں ہر پندھرواڑے میں کپاس کی پیداوار 10 لاکھ گانٹھوں سے زیادہ ہوتی تھی، لیکن کاٹن زونز میں گنے کی ریکارڈ کاشت کی وجہ سے گزشتہ دو سال میں ایک بھی پندھرواڑے میں یہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال جولائی سے نومبر کے پہلے ہفتے تک زیادہ تر کاٹن زونز میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے کپاس کے بیج کی اگاؤ میں کمی واقع ہوئی اور روئی کا ریشہ بھی متاثر ہوا، جس کی لمبائی اور مضبوطی کم ہونے کے باعث ٹیکسٹائل ملز کو بیرون ملک سے زیادہ معیاری روئی درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کپاس کی مجموعی پیداوار 56 لاکھ 7 ہزار گانٹھ تھی، جبکہ رواں سال کاشت کم ہونے کے باوجود پیداوار 60 لاکھ گانٹھوں سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایف بی آر کی جانب سے ڈیجیٹل انوائسنگ پر عمل درآمد ہے، جس سے روئی کے غیر دستاویزی کاروبار کی شرح میں کمی آئی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب کی کراپ رپورٹنگ سروسز کی 29 اکتوبر تک کی رپورٹ میں گانٹھوں کی مقدار 35 لاکھ 77 ہزار بتائی گئی ہے، جو پی سی جی اے کے اعداد و شمار سے مختلف ہے اور اس کی وجہ واضح نہیں۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے اور گنے کی کاشت کے رجحان پر قابو پائے بغیر کپاس کی پیداوار کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں