around.pk
Thursday, 5 November 2026
⛅ کراچی 32°☀ لاہور 26°☀ اسلام آباد 21°
پاکستان

شارع فیصل کال سینٹر چھاپہ: 9 ملزمان جسمانی ریمانڈ پر، کم عمر اور خواتین ملازمین ضمانت پر رہا

کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع ایک کال سینٹر پر این سی سی اے کے چھاپے کے بعد 273 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 9 کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیجا گیا جبکہ کم عمر اور خواتین ملازمین کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

around.pk·31m ago

کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے شارع فیصل پر واقع ایک کال سینٹر پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی اے) کے چھاپے کے بعد عدالتی کارروائی مکمل ہو گئی ہے، جس میں مجموعی طور پر 273 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ تفتیشی افسر نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی گلریز میمن کی عدالت میں بتایا کہ محکمۂ داخلہ نے کال سینٹر کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت زیادہ تر حراست شدہ افراد کو کال سینٹر ہی میں رکھا گیا ہے۔

عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزمان پر الزام ہے کہ وہ اس غیر قانونی کال سینٹر کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو فراڈ کا نشانہ بنا رہے تھے۔ تفتیش کار نے عدالت سے استدعا کی کہ 9 اہم ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر حوالے کیا جائے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں، جبکہ باقی ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔ ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب ایہ انتظام کیا گیا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر 9 ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی اے کی تحویل میں دے دیا، جبکہ دیگر ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے 18 برس سے کم عمر ملازمین اور خواتین ملزمان کو پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔ وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں 70 سے زائد کم عمر بچے اور 80 سے زائد خواتین شامل ہیں، اور مقدمے کی دفعات قابلِ ضمانت ہیں، اس لیے انہیں رہا کیا جائے۔

دوسری جانب، چھاپے کے دوران حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ نے شارع فیصل پر بلوچ کالونی پل کے قریب احتجاج کیا، جس کے باعث اس اہم شاہراہ پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین نے میٹروپول اور ٹیپو سلطان کٹ سے ایئرپورٹ جانے والے راستے کو بھی متاثر کیا، جس سے اسکول وینز اور ریڈ اینڈ گرین بسیں بھی جام میں پھنس گئیں۔ احتجاج کرنے والے اہل خانہ کا مطالبہ تھا کہ ان کے پیاروں کو فوری رہا کیا جائے کیونکہ ان کا کسی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ محض ملازمت کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔

اطلاع ملتے ہی ٹریفک پولیس اور ڈسٹرکٹ پولیس کے افسران موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرایا گیا، جس کے بعد شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ بڑے پیمانے پر کال سینٹرز کی کارروائیوں میں محض ملازمت کرنے والے نوجوانوں اور خواتین کو کس حد تک تحفظ دیا جاتا ہے، اور کیا تفتیشی ادارے کارروائی کے دوران غیر متعلقہ افراد کو بھی حراست میں لینے سے گریز کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آن لائن فراڈ کے واقعات میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر سائبر کرائم سے نمٹنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ تاہم، قانونی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیوں میں ملازمین اور منتظمین کے درمیان فرق واضح رکھا جانا چاہیے تاکہ معصوم افراد کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس مقدمے کی مزید تفتیش سے یہ بھی واضح ہو سکے گا کہ کال سینٹر کے کتنے ملازمین فراڈ کی سرگرمیوں میں براہ راست ملوث تھے اور کتنے محض روزگار کے لیے وہاں کام کر رہے تھے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں