عباسی شہید اسپتال میں سرنجز کی خریداری میں بے ضابطگیوں کا انکشاف، بعد میں تعینات افسر معطل
کراچی کے عباسی شہید اسپتال میں سرکاری سرنجز کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ایک ایسے افسر کو معطل کیا گیا ہے جو خریداری کے وقت اپنی پوسٹنگ پر ہی نہیں تھے۔

کراچی کی بلدیہ عظمیٰ کے زیرِ انتظام عباسی شہید اسپتال میں سرکاری سرنجز کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس معاملے میں ایک ایسے افسر کو معطلی کا نشانہ بنایا گیا ہے جو خریداری کے وقت متعلقہ عہدے پر تعینات ہی نہیں تھے، جبکہ اصل ذمہ داروں کو تحفظ فراہم کرنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق اسپتال کے اسٹور سے سرنجز کی برآمدگی کے معاملے پر ڈی ایم ایس اسٹور ڈاکٹر طاہر قائم خانی کو حکم نامے کے ذریعے معطل کیا گیا ہے۔ تاہم ریکارڈ بتاتا ہے کہ ان کی تعیناتی 14 اکتوبر کو کی گئی تھی، جبکہ دس ہزار ماسٹر سرنجز کی خریداری کا آرڈر ان کی تعیناتی سے آٹھ روز قبل چھ اکتوبر کو اسپتال کے ایم ایس نے جاری کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق آٹھ اکتوبر کو اسپتال کے اس وقت کے ڈی ایم ایس اسٹور کامران اللہ انصاری نے کمپنی سے دس ہزار سرنجز وصول کیں اور اسی روز کمپنی کو ادائیگی بھی کر دی گئی۔ معاملے کی اہم بات یہ ہے کہ آرڈر ماسٹر برانڈ کی سرنجز کا دیا گیا تھا، لیکن کمپنی نے ایپل برانڈ کی سرنجز فراہم کیں۔
مزید برآں سرنجز کی خریداری اور معیار کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری اس وقت کے ڈی ایم ایس کی تھی، تاہم الزام ہے کہ سابق ڈی ایم ایس نے بغیر جانچ کے سرنجز وصول کر کے ادائیگی مکمل کر دی۔ اس کے برعکس بعد میں تعینات ہونے والے ڈاکٹر طاہر قائم خانی کو اس معاملے کا ذمہ دار قرار دے کر محکمہ ایچ آر ایم کی جانب سے معطلی کا پروانہ جاری کر دیا گیا ہے۔
اس صورتحال پر عباسی شہید اسپتال کے دیگر افسران میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ سینئر افسران نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ چھان بین کرائی جائے اور اصل ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ سرکاری وسائل کے ضیاع اور عوامی مفاد سے کھیل کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ سرکاری اسپتالوں میں طبی سامان کی خریداری میں شفافیت عوامی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر معیاری یا غیر متعلقہ برانڈ کی سرنجز کے استعمال سے مریضوں اور طبی عملے کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے اس معاملے کی مکمل اور غیرمشروط تحقیقات ناگزیر ہے۔










