around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 27°⛅ لاہور 22°⛅ اسلام آباد 18°
پاکستان

کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 14 فیصد کمی، آئی جی سندھ کا کمیونٹی پولیسنگ پر زور

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ رواں سال کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 14 فیصد کمی آئی ہے اور شہر میں نگرانی کے کیمراں کی تعداد 32 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار کر دی گئی ہے۔

around.pk·54m ago

کراچی میں رواں سال اسٹریٹ کرائم میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ شہر بھر میں نگرانی کے کیمروں کی تعداد 32 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار تک پہنچا دی گئی ہے۔ یہ بات آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے منگل کو سی پی کے کے زیر اہتمام کمیونٹی پولیسنگ کی افادیت کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی پولیس عوام کے تعاون کے بغیر موثر پولیسنگ نہیں کر سکتی اور کراچی میں جرائم کی شرح کو کم کرنے میں تاجر برادری کا کردار اہم رہا ہے۔

آئی جی سندھ نے بتایا کہ کیمروں کی مدد سے جرائم اور سماجی واقعات کی نشاندہی میں سہولت ہوئی ہے اور گاڑیاں چھیننے والے زیادہ تر ملزمان نگرانی کے کیمروں یا مقابلے کے دوران پکڑے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی کے کے سینٹرز کو کمیونٹی سینٹرز میں تبدیل کرنے کی تجویز پر غور کیا جائے گا تاکہ گھریلو تنازعات کے حل کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی زیرِ قیادت اقدامات کیے جا سکیں، کیونکہ اکثر ایسے ہی تنازعات بعد میں سنگین جرائم کا سبب بنتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں گھریلو ملازموں کی شکل میں مجرمانہ عناصر شامل ہو گئے ہیں اور ایک ملزمہ نے اکیلے 18 ڈکیتیاں کروائیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں پولیس کے 42 ہزار اہلکار موجود ہیں جبکہ آبادی کے تناسب سے 60 ہزار کی ضرورت ہے، اور ایسے اہلکار درکار ہیں جو تعلیم اور ٹیکنالوجی سے واقف ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے صندھ میں ڈکیتی کی مزاحمت پر قتل کے واقعات میں 17 فیصد اور زخمی ہونے کے واقعات میں 32 فیصد کمی آئی ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے کہا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے یہاں کی پولیسنگ ایک چیلنج ہے جسے عوام کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹریٹ کرائم میں 15 فیصد، قتل اور دیگر سنگین جرائم میں 32 فیصد، گاڑیاں چھیننے میں 15 فیصد جبکہ ڈکیتی کی مزاحمت پر قتل میں 89 فیصد اور زخمی ہونے میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید کیمروں کی ضرورت ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ کمیونٹی پولیسنگ کے تحت نصب کیمرے سیف سٹی نظام سے منسلک کیے جائیں۔

سی پی کے پیٹرن ان چیف مراد علی سونی نے کہا کہ شہر میں چھوٹے تاجروں کی 70 تنظیمیں سرگرم ہیں جنہیں کمیونٹی پولیسنگ کی افادیت سے آگاہی کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک تاجر برادری کراچی کی ذمہ داری نہیں لے گی شہر کی صورت حال تبدیل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ سی پی کے نے 18 تھانوں کی حدود میں دو ہزار کیمرے نصب کیے ہیں جبکہ 600 مزید کی تنصیب کا کام جاری ہے، اور تاجر تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مارکیٹوں میں کم از کم 50 کیمرے لگا کر اس کا کنٹرول متعلقہ تھانے کو دیں۔

سیمینار میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر طلعت محمود نے کہا کہ شہر کی ذمہ داری کے حوالے سے چیمبر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پولیس کی موجودہ تعداد دو کروڑ آبادی کے حساب سے ہے جبکہ شہر کی آبادی سوا تین کروڑ ہو چکی ہے، اس لیے شہریوں کی حفاظت کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری گورنر سندھ ڈاکٹر سیف الرحمان اور سی ای او انڈس ہسپتال ڈاکٹر عبدالباری خان نے بھی خطاب کیا اور شہر کو محفوظ اور سرسبز بنانے کے لیے تاجر برادری اور عوام کے تعاون پر زور دیا۔

اختتام پر شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کمیونٹی پولیسنگ کے ذریعے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد بڑھانے، جرائم میں کمی اور شہری سہولیات کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں کمی کے سرکاری اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں تاہم شہریوں کی جانب سے جرائم کے واقعات کی شکایات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں، جس کے پیش نظر پولیس کے دعووں کی آزادانہ تصدیق کے لیے شفاف ڈیٹا کی فراہمی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں