وادی سندھ کی تاریخ پر 15ویں عالمی تھاپ کانفرنس لاہور میں شروع
لاہور میں دو روزہ 15ویں عالمی تھاپ کانفرنس کا آغاز، جس میں وادی سندھ کی قدیم تہذیب، تاریخی ورثے اور دریائی تجارت پر تحقیقی مقالے پیش کیے جا رہے ہیں۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
لاہور میں وادی سندھ کی قدیم تہذیب اور تاریخی ورثے پر تحقیق کے فروغ کے لیے 15ویں سالانہ عالمی تھاپ کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔ دو روزہ کانفرنس کا موضوع 'وادی سندھ میں ثقافت اور زندگی: ہڑپہ تہذیب (7000 قبل مسیح) سے یورپی نوآبادیاتی دور (1600 عیسوی) تک' رکھا گیا ہے، جس میں پاکستان بھر سے ممتاز ماہرین تعلیم، محققین اور نوجوان اسکالرز شرکت کر رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تھاپ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر ساجدہ حیدر وندل نے شرکا کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ تھاپ ثقافتی ورثے کے تحفظ، مقامی روایات کے فروغ اور تاریخی موضوعات پر تحقیق کے لیے اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔ کانفرنس کے کنوینر پرویز وندل نے کہا کہ دریائے سندھ کا خطہ ایک مربوط تہذیبی اور ثقافتی نظام کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی تشکیل میں دریا، مقامی آبادیاں، معیشت اور روایات نے اہم کردار ادا کیا۔
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے پرو وائس چانسلر اور یونیسکو چیئر برائے پائیدار شہری خطے پروفیسر ڈاکٹر نعمان احمد نے کلیدی خطاب میں وادی سندھ کی تہذیبی اہمیت اور خطے کی تاریخی و سماجی ترقی کو سمجھنے کے لیے اس کے مطالعے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے مہمان خصوصی کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے تہذیبوں کے ارتقا اور انسانی زندگی پر مصنوعی ذہانت کے اثرات پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت روزمرہ زندگی کے ساتھ مختلف پیشہ ورانہ شعبوں کے طریقہ کار میں بھی نمایاں تبدیلیاں لا رہی ہے۔
کانفرنس کے پہلے روز تین علمی نشستوں میں دس تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ پہلی نشست ڈاکٹر فریحہ ظفر کی صدارت میں ہوئی جس میں سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ کے آثار، ہڑپہ، مصری اور میسوپوٹیمیا کے قدیم رسم الخط کا تقابلی مطالعہ اور لاہور کے تاریخی کتبوں کی اہمیت پر مقالے پیش کیے گئے۔ دوسری نشست عاصم امداد کی زیر صدارت ہوئی جس میں وادی سندھ کی تہذیب سے یورپی نوآبادیاتی دور تک تاریخی تبدیلیوں، دریائے راوی کے ذریعے لاہور، ملتان اور سندھ کے درمیان قدیم تجارتی روابط، برطانوی نہری نظام سے قبل سندل بار کی سماجی و ثقافتی زندگی اور وادی سندھ میں زبان کی سیاست پر تحقیقی مقالے شامل تھے۔
تیسری نشست شاہد ندیم کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں لاہور کی قدیم تاریخ، ہڑپہ تہذیب سے ابتدائی اسلامی دور تک آثار قدیمہ کے شواہد، وادی سندھ کی شہری منصوبہ بندی، دستکاری اور تجارتی روابط جبکہ گندھارا آرٹ میں لباس اور زیورات کے ذریعے سماجی شناخت اور مذہبی وابستگی کے اظہار کا جائزہ لیا گیا۔
تینوں نشستوں کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں شرکا نے محققین سے سوالات کیے اور مختلف موضوعات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں سے ماہرین تعلیم اور محققین لاہور پہنچے ہیں۔










